🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة القصص
وَ لَا یَصُدُّنَّکَ عَنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ بَعۡدَ اِذۡ اُنۡزِلَتۡ اِلَیۡکَ وَ ادۡعُ اِلٰی رَبِّکَ وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿ۚ۸۷﴾
اور یہ لوگ تجھے اللہ کی آیات سے کسی صورت روکنے نہ پائیں، اس کے بعد کہ وہ تیری طرف اتاری گئیں اور اپنے رب کی طرف بلا اور ہرگز مشرکوں سے نہ ہو۔[87]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
87۔ اور ایسا نہ ہونا چاہئے کہ آپ کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی آیات نازل ہونے کے بعد کافر آپ کو ان پر عمل پیرا ہونے سے روک دیں۔ آپ انھیں اپنے پروردگار کی طرف دعوت دیجئے اور شرک کرنے والوں میں شامل نہ ہوں [120]
[120] یہ خطاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف محض تاکید مزید کے لئے ہے۔ ورنہ آپ سب سے زیادہ شرک کے خلاف ہی جہاد فرما رہے تھے اور آپ سے شرک کا صدور ناممکن تھا۔ گویا آپ کو خطاب اس لئے کیا گیا کہ دوسروں کو ٹھیک طرح تنبیہ ہو جائے۔