🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الروم
وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ وَ ہُوَ اَہۡوَنُ عَلَیۡہِ ؕ وَ لَہُ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰی فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۲۷﴾
اور وہی ہے جو خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھراسے دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ اسے زیادہ آسان ہے اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی شان اسی کی ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔[27]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
27۔ اور وہی تو ہے جو خلقت کی ابتدا کرتا ہے پھر [26] وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ (دوسری بار کی پیدائش) اس پر زیادہ آسان ہے۔ آسمانوں اور زمین [27] میں اسی کی شان بالاتر ہے اور وہ سب پر غالب اور حکمت والا ہے۔
[26] اس کی تشریح کے لئے دیکھئے سورۃ النمل کی آیت نمبر 74 اور سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر 17 کے حواشی۔

[27] یعنی اعلیٰ سے اعلیٰ صفات اور اونچی سے اونچی شان اسی کی ہے۔ زمین و آسمان کی کوئی بھی چیز حسن اور خوبی میں اللہ کی شان اور صفات سے کچھ بھی مناسبت نہیں رکھتی۔ بلکہ اگر کسی چیز میں کوئی خوبی موجود بھی ہے تو وہ اسی کے کمالات کا ادنیٰ پرتو ہے۔