🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الروم
وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ وَ الۡاِیۡمَانَ لَقَدۡ لَبِثۡتُمۡ فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ اِلٰی یَوۡمِ الۡبَعۡثِ ۫ فَہٰذَا یَوۡمُ الۡبَعۡثِ وَ لٰکِنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۶﴾
اور وہ لوگ جنھیں علم اور ایمان دیا گیا کہیں گے کہ بلاشبہ یقینا تم اللہ کی کتاب میں اٹھائے جانے کے دن تک ٹھہرے رہے، سو یہ اٹھائے جانے کا دن ہے اور لیکن تم نہیں جانتے تھے۔[56]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
56۔ اور جنہیں علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے: تم تو اللہ کے نوشتہ کے مطابق روز حشر [62] تک پڑے رہے۔ سو یہی ہے حشر کا دن لیکن تم تو اسے (حق) نہ جانتے تھے۔
[62] ان کی ایسی قسمیں سن کر ایمان دار انھیں کہیں گے کہ یہ گھڑی دو گھڑی کا معاملہ نہیں تم دھوکہ میں پڑے ہوئے ہو۔ اللہ کے علم یا لوح محفوظ میں نوشتہ کے مطابق تم قیامت کے دن تک ٹھہرے رہے اور دیکھو یہ آج قیامت کا دن ہے اور یہ وہی دن ہے جسے تم ماننے کو قطعاً تیار نہ تھے۔ اور تم اسے جاننا چاہتے بھی نہ تھے۔