اور بلاشبہ یقینا ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثال بیان کی ہے اور یقینا اگر تو ان کے پاس کوئی نشانی لائے تو یقینا وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ضرور ہی کہیں گے کہ تم نہیں ہو مگر جھوٹے۔[58]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
58۔ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثالیں بیان [64] کر دیں ہیں۔ اور اگر آپ ان کے پاس کوئی معجزہ بھی لے آئیں تو کافر لوگ یہی کہیں گے کہ تم تو جعلسازی کر رہے ہو
[64] یعنی موت کے بعد دوسری زندگی میں پیش آنے والے ہر طرح کے حالات سے قرآن کے ذریعہ لوگوں کو خبردار کر دیا ہے۔ اب بھی اگر کوئی بد بخت اپنے انجام سے بے خبر رہنا چاہتا ہے تو اس کی مرضی ہے۔ اللہ نے تو ہر طرح سے لوگوں پر حجت تمام کر دی ہے اور ان بد بختوں کی تو یہ حالت ہو چکی ہے کہ اگر آپ انھیں کوئی حسی معجزہ بھی دکھا دیں تو یہ کہنے لگیں گے کہ یہ بھی کوئی شعبدہ اور فریب کاری ہی معلوم ہوتی ہے جسے پیغمبر اور اس کے پیروکاروں نے ملی بھگت سے لوگوں کے سامنے پیش کر دیا ہے اور وہ آپس میں ہی ایک دوسرے کی تائید و توثیق کر کے دوسروں کو الو بنا رہے ہیں۔