اور اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ان کے غصے سمیت لوٹا دیا، انھوں نے کوئی بھلائی حاصل نہ کی اور اللہ مومنوں کو لڑائی سے کافی ہوگیا اور اللہ ہمیشہ سے بے حد قوت والا، سب پر غالب ہے۔[25]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
25۔ اور کفار (کے لشکروں) کو اللہ تعالیٰ نے بے نیل و مرام اپنے دلوں کی جلن دلوں میں ہی لئے واپس لوٹا [34] دیا اور لڑائی کے لئے مومنوں کی طرف سے اللہ ہی کافی ہو گیا وہ یقیناً بڑی قوت والا اور زبردست [35] ہے۔
[34] عبد ودّ کی لاش کا عوضانہ:۔
یعنی اتحادیوں کا لشکر نہایت ذلت، ناکامی اور غصہ سے پیچ و تاب کھاتا ہوا بے نیل و مرام میدان چھوڑ کر واپسی پر مجبور ہو گیا اور مسلمانوں کے لئے اپنا بہت سامان چھوڑ گیا۔ اسی جنگ میں عمرو بن عبد ودّ نے، جو ایک ہزار سواروں پر بھاری سمجھا جاتا تھا، مسلمانوں کو دعوت مبارزت دی اور سیدنا علیؓ اس کے مقابلے میں اترے اور اس کا کام تمام کر دیا۔ مشرکوں نے درخواست کی کہ دس ہزار درہم کے عوض اس کی لاش انھیں دے دی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: لاش تم مفت ہی لے جاؤ ہم مردوں کی قیمت نہیں کھایا کرتے۔
[35] حیی بن اخطب نے بنو قریظہ کو کیسے بد عہدی پر آمادہ کیا؟ اللہ تعالیٰ نے عام لڑائی کی نوبت ہی نہ آنے دی اور ان کے محاصرہ کو اٹھانے کے لئے یخ بستہ ہوا اور فرشتے بھیج دیئے۔ یہود میں اور اتحادیوں میں پھوٹ ڈال دی۔ ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن سخت بدحواس ہو کر بھاگ کھڑا ہوا۔ بھلا اللہ کی زبردست قوت کے سامنے کون ٹھہر سکتا ہے؟