تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة آل عمران
وَ لَا تُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّا لِمَنۡ تَبِعَ دِیۡنَکُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡہُدٰی ہُدَی اللّٰہِ ۙ اَنۡ یُّؤۡتٰۤی اَحَدٌ مِّثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ اَوۡ یُحَآجُّوۡکُمۡ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡفَضۡلَ بِیَدِ اللّٰہِ ۚ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۚۙ۷۳﴾
اور کسی کے بارے میں مت مانو، سوائے اس کے جو تمھارے دین کی پیروی کرے۔ کہہ دے اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے، (یہ مت مانو) کہ جو کچھ تمھیں دیا گیا ہے اس جیسا کسی اور کو بھی دیا جائے گا، یا وہ تم سے تمھارے رب کے پاس جھگڑا کریں گے۔ کہہ دے بے شک سب فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ اسے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔[73]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
73۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات کا اعتبار نہ کرو۔ آپ ان سے کہئے کہ ہدایت وہ ہے جو اللہ کی ہے کہ وہ کسی دوسرے کو بھی وہی کچھ دے دے جو تمہیں دیا یا ہدایت وہ ہے جس سے وہ تمہارے پروردگار کے حضور تم [64] پر حجت قائم کر سکیں۔؟ نیز ان سے کہئے کہ فضل و شرف تو اللہ کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے دے دے کیونکہ وہ بڑا وسیع النظر اور سب کچھ جاننے والا ہے
[64] اسلام کی راہ میں روکنے کے لیے یہود کی چالیں:۔ چوتھی کوشش ان کی یہ تھی کہ وہ ایک دوسرے کو اس بات کی تاکید کرتے تھے کہ خبردار اپنے دین پر پکے رہنا، دوسرے کسی مذہب والے کی پیروی نہ کرنا، تم مسلمانوں کی باتیں سنو مگر قبول وہی کرو جو تمہارے اپنے مذہب کے مطابق ہوں۔ اور خبردار! انہیں تورات کی کوئی ایسی بات بھی نہ بتلانا جو تمہارے اپنے خلاف جاتی ہو۔ ورنہ وہ قیامت کو اللہ کے حضور یہ کہہ دیں گے کہ ان باتوں کا تو یہ یہود خود بھی اقرار کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں اپنے پیارے پیغمبر سے فرمایا کہ ان سے کہہ دیجئے کہ تم جو ہدایت کے ٹھیکیدار بنے پھرتے ہو تو یہ تو بتلاؤ کہ یہ ہدایت تمہیں ملی کہاں سے ہے؟ اور اگر اللہ ہی کی طرف سے ملی ہے تو کیا دوسروں کو ایسی ہی ہدایت کے احکام نہیں بتلا سکتا۔ بالخصوص اس صورت میں کہ تم اللہ کے احکام کے علی الرغم ہر قسم کی بد دیانتی پر اتر آئے ہو؟