بے شک جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور انھوں نے نماز قائم کی اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا اس میں سے انھوں نے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کیا، وہ ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں جوکبھی برباد نہ ہو گی ۔[29]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
29۔ جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے، نماز قائم کرتے، اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خفیہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار [34] ہیں جس میں کبھی خسارہ نہ ہو گا۔
[34] دنیا میں انسان جس چیز کی بھی تجارت کرتا ہے۔ اس پر فوری توجہ بھی صرف کرتا ہے اور اس کام کے لئے مخلص بھی ہوتا ہے اس کے باوجود اسے نقصان کا خطرہ بھی رہتا ہے لیکن اللہ کا مخلص بندہ جو اپنے اللہ کے ساتھ تجارت کرتا ہے اس میں کبھی خسارے اور نقصان کا اندیشہ نہیں۔