🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة ص
وَ قَالُوۡا رَبَّنَا عَجِّلۡ لَّنَا قِطَّنَا قَبۡلَ یَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴿۱۶﴾
اور انھوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں ہمارا حصہ یوم حساب سے پہلے جلدی دے دے۔[16]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
16۔ اور کہتے ہیں: پروردگار! ہمیں ہماری چارج شیٹ جلدی کر کے روز حساب [18] سے پہلے ہی دے دے
[18] کفار کا مطالبہ ہمارا اعمال نامہ ابھی دیا جائے:۔

چونکہ کفار مکہ بعث بعد الموت، روز آخرت، اعمال نامہ اور حساب کتاب سب باتوں کے منکر تھے۔ اس لئے از راہ مذاق جس طرح یہ کہتے تھے کہ جس عذاب کی تم دھمکی دیتے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے؟ اسی طرح یہ بھی کہتے تھے کہ ہمارا اعمال نامہ جو ہمیں قیامت کے دن ملنا ہے ابھی ہمارے حوالے کر دیں اور ہمارے حصے جو شامت لکھی ہوئی ہے وہ اس دنیا میں ہی ہم سے حساب لے لے۔