🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة ص
وَ الطَّیۡرَ مَحۡشُوۡرَۃً ؕ کُلٌّ لَّہٗۤ اَوَّابٌ ﴿۱۹﴾
اور پرندوں کو بھی، جب کہ وہ اکٹھے کیے ہو تے، سب اس کے لیے رجوع کرنے والے تھے۔[19]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
19۔ اور پرندوں کو بھی جو جمع ہو جاتے تھے وہ سب ان کی تسبیح کی طرف متوجہ [22] ہو جاتے تھے۔
[22] سیدنا داؤد کی خوش الحانی:۔

اللہ نے آپ کو ایسی سریلی آواز بخشی تھی کہ اس میں ایسی شرینی اور تاثیر تھی کہ جب آپ ہر روز پہلے پہر اور پچھلے پہر اللہ کی حمد کے ترانے گاتے تو پوری فضا مسحور ہو جاتی تھی۔ پہاڑوں کی وادیوں میں ایسی گونج پیدا ہو جاتی تھی اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ پہاڑ بھی آپ کے ساتھ اللہ کی حمد و ثنا میں شریک ہو گئے ہیں۔ اور پرندوں تک آپ کے گرد و پیش میں جمع ہو کر آپ کے نغمات نہایت توجہ سے سنتے اور چہچہا کر آپ کے ہم آہنگ ہو جاتے تھے۔ آپ کی اس خوش الحانی کا ذکر پہلے سورۃ المومنون کی آیت 79 میں بھی گزر چکا ہے۔ اور سورۃ سبا کی آیت نمبر 10 میں بھی۔