🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة ص
ہٰذَا ۙ فَلۡیَذُوۡقُوۡہُ حَمِیۡمٌ وَّ غَسَّاقٌ ﴿ۙ۵۷﴾
یہ ہے (سزا) سو وہ اسے چکھیں، کھولتا ہوا پانی اور پیپ۔[57]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
57۔ یہ ہے ان کا انجام اب وہ مزا چکھیں کھولتے ہوئے پانی کا اور پیپ [58] کا
[58] ﴿غساق﴾ کا لغوی مفہوم:۔

﴿غساق﴾ کا معنی عموماً پیپ یا بہتی پیپ کر لیا جاتا ہے جس میں خون کی بھی آمیزش ہو جبکہ صاحب منجد، فقہ اللغہ اور منتہی الارب سب نے اس کے معنی انتہائی ٹھنڈا اور بدبو دار پانی بتائے ہیں۔ قرآن میں دو مقامات پر ﴿غساق﴾ کا لفظ حمیم کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے ایک اس مقام پر اور دوسرے سورۃ نبا کی آیت نمبر 25 میں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے معنی شدید ٹھنڈا اور بدبو دار پانی ہی کرنا زیادہ مناسب ہے۔