🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الزمر
بَلٰی قَدۡ جَآءَتۡکَ اٰیٰتِیۡ فَکَذَّبۡتَ بِہَا وَ اسۡتَکۡبَرۡتَ وَ کُنۡتَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۵۹﴾
کیوں نہیں،بے شک تیرے پاس میری آیات آئیں تو تو نے انھیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو انکار کرنے والوں میں سے تھا۔[59]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
59۔ (اللہ فرمائے گا) کیوں نہیں۔ تیرے پاس میری آیات آئیں تو تو نے انہیں جھٹلا دیا اور اکڑ بیٹھا اور تو تو تھا ہی کافروں میں [76] سے
[76] یعنی تو جھوٹ بکتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ اگر مجھے ایک بار پھر موقعہ دیا جائے تو میں نیکوکار بن جاؤں گا۔ جب تو دنیا میں تھا تو اس وقت تجھے میری آیات پہنچی تھیں۔ لیکن تیری فطرت ہی ایسی ہے جس میں اکڑ اور تکبر ہے جس کی وجہ سے تو میری آیات کو جھٹلاتا رہا۔ اور اب بھی تیری طبیعت ویسی کی ویسی ہے۔ وہ دوبارہ دنیا میں جا کر بدل نہیں جائے گی۔ آج جو کچھ تو کہہ رہا ہے وہ صرف عذاب کو دیکھ کر کہہ رہا ہے۔ جب تو نے اس سے نجات پالی تو تیری اصل فطرت پھر عود کر آئے گی۔