🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الشوريٰ
اِنَّمَا السَّبِیۡلُ عَلَی الَّذِیۡنَ یَظۡلِمُوۡنَ النَّاسَ وَ یَبۡغُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴۲﴾
راستہ تو انھی پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میںحق کے بغیر سرکشی کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔[42]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
42۔ الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے اور زمین [60] میں ناحق زیادتی کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے
[60] زیادتی کا بدلہ لینے کے اصول:۔

یعنی جو لوگ بدلہ لینا ہی چاہیں مگر بدلہ لینے میں زیادتی نہ کریں وہ مورد الزام نہیں۔ مورد الزام وہ لوگ ہیں جو ظلم کی ابتدا کرتے ہیں اور بلاوجہ کرتے ہیں۔ پھر اگر بدلہ لیں تو بدلہ لینے میں بھی حد سے بڑھ جاتے اور مزید ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ دراصل فسادی ہیں جن کا بدلہ دردناک عذاب ہے۔