🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الزخرف
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمۡ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحۡمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجۡہُہٗ مُسۡوَدًّا وَّ ہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿۱۷﴾
حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوش خبری دی جائے جس کی اس نے رحمان کے لیے مثال بیان کی ہے تو اس کا منہ سارا دن سیاہ رہتا ہے اور وہ غم سے بھر ا ہوتا ہے۔[17]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
17۔ اور جب ان میں سے کسی کو وہ مژدہ سنایا جاتا ہے جسے یہ رحمن سے منسوب کرتے ہیں (یعنی لڑکی کا) تو اس کا چہرہ سیاہ [15] پڑ جاتا ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔
[15] بیٹی کی خبر پر اہل مکہ کے تیور بگڑنا:۔

یہ ستم ہی کیا کم تھا کہ اللہ کی اولاد قرار دی جائے۔ اس پر مزید پر ستم ڈھایا کہ اولاد میں سے بھی صرف لڑکیاں اللہ کے لیے تجویز کیں۔ جنہیں وہ اپنے لیے سخت ناپسند کرتا ہے۔ اور اگر اسے بتایا جائے کہ اس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو اس کے تیور ہی بدل جاتے ہیں۔ شرم اور ندامت سے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اور اندر ہی اندر اسے اس بات کا غم کھائے جاتا ہے۔ اور جب کوئی بس نہیں چلتا تو اسے زندہ درگور کر دیتا ہے۔ واضح رہے کہ اہل عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ عورتوں کی شکل کے ان کے خیالی مجسمے بناتے اور پھر ان کی پوجا کرتے تھے۔ عزیٰ اور لات و منات ان کی ایسی ہی دیویاں تھیں۔