🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الزخرف
وَ جَعَلُوا الۡمَلٰٓئِکَۃَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عِبٰدُ الرَّحۡمٰنِ اِنَاثًا ؕ اَشَہِدُوۡا خَلۡقَہُمۡ ؕ سَتُکۡتَبُ شَہَادَتُہُمۡ وَ یُسۡـَٔلُوۡنَ ﴿۱۹﴾
اور انھوں نے فرشتوں کو، وہ جو رحمان کے بندے ہیں، عورتیں بنا دیا، کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے؟ ان کی گواہی ضرور لکھی جائے گی اور وہ پوچھے جائیں گے۔[19]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
19۔ اور ان لوگوں نے فرشتوں کو جو رحمن کے بندے ہیں۔ عورتیں قرار دے دیا۔ کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت [18] موجود تھے؟ ان کی ایسی شہادت ضرور لکھی جائے گی اور ان سے باز پرس [19] بھی ہو گی۔
[18] اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ کیا انہوں نے فرشتوں کی جسمانی ساخت کو اچھی طرح دیکھا ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ فرشتے مذکر نہیں بلکہ مؤنث ہوتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فرشتوں میں تذکیر و تانیث یا توالد و تناسل کا سلسلہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ وہ خالصتاً اللہ کے بندے ہیں اور اس کے حکم کے پابند۔ اپنے اختیار سے وہ کچھ کر ہی نہیں سکتے۔

[19] یعنی وہ پھر بھی اپنی ہٹ سے باز نہیں آتے اور اپنی اس بیان بازی پر مصر ہیں۔ کہ فرشتے واقعی عورتیں ہیں۔ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور قابل پرستش دیویاں ہیں۔ تو ان کا یہ بیان ریکارڈ ہو جائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کس بنیاد پر تم خود بھی گمراہ ہوئے اور بہت سی خلقت کو گمراہ کیا تھا۔