🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الزخرف
وَ مَا نُرِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ اِلَّا ہِیَ اَکۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِہَا ۫ وَ اَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡعَذَابِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اور ہم انھیں کوئی نشانی نہیں دکھلاتے تھے مگر وہ اپنے جیسی (پہلی نشانی) سے بڑی ہوتی اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا، تاکہ وہ لوٹ آئیں۔[48]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
48۔ اور ہم نے انہیں جو بھی نشانی دکھائی وہ اپنے سے پہلی نشانی [47] سے بڑھ کر ہوتی تھی اور ہم انہیں عذاب میں مبتلا کرتے رہے کہ شاید وہ باز آجائیں۔
[47] ان نشانیوں سے مراد وہ پے در پے عذاب ہیں جن کا ذکر سورۃ اعراف کی آیت نمبر 133 میں گزر چکا ہے۔ وہی حاشیہ ملاحظہ فرما لیا جائے۔ یہ ہلکے ہلکے عذاب دراصل تنبیہات تھیں جن سے غرض یہ تھی کہ شاید وہ ڈر کر اپنی حرکتوں سے باز آجائیں۔