🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الزخرف
یٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚ۶۸﴾
اے میرے بندو ! آج نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔[68]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
68۔ اے میرے بندو! آج تمہیں نہ کوئی خوف ہو گا [66] اور نہ تم غمزدہ ہو گے۔
[66] یعنی وہ لوگ جنہوں نے تقویٰ کی بنا پر دوستی رکھی ہو گی۔ نیکی کے کاموں پر ایک دوسرے سے تعاون کیا ہو گا۔ اللہ کے دین کے قیام کی خاطر آپس میں مشترکہ کوششیں کی ہوں گی۔ دین کے رشتہ کو سب رشتوں اور محبتوں سے مقدم سمجھا ہو گا۔ ایسے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان عام ہو گا۔ کہ آج قیامت کے دن تمہیں کسی پریشانی کا خوف نہیں رکھنا چاہئے اور انہیں اپنی سابقہ زندگی پر کچھ ملال بھی نہ ہو گا۔ اس لیے کہ انہوں نے دنیا میں اپنی زندگی اللہ کی فرمانبرداری میں گزاری تھی۔