🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأحقاف
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ نَتَقَبَّلُ عَنۡہُمۡ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَ نَتَجَاوَزُ عَنۡ سَیِّاٰتِہِمۡ فِیۡۤ اَصۡحٰبِ الۡجَنَّۃِ ؕ وَعۡدَ الصِّدۡقِ الَّذِیۡ کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۶﴾
یہی وہ لوگ ہیں کہ ہم ان سے وہ سب سے اچھے عمل قبول کرتے ہیں جو انھوں نے کیے اور ان کی برائیوں سے در گزر کرتے ہیں، جنت والوں میں، سچے وعدے کے مطابق جو ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔[16]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
16۔ یہی لوگ ہیں جن کے بہترین اعمال [25] کو ہم قبول کرتے اور ان کی برائیوں سے در گزر کر جاتے ہیں۔ یہ اہل جنت میں شامل ہیں۔ (اللہ کا) وعدہ سچا ہے جو ان سے کیا جاتا تھا۔
[25] یعنی ان کے اچھے اعمال میں سے جو بہترین ہوں گے، ان کی مناسبت سے ہی ہم ان کے سارے اچھے اعمال کا بدلہ دے دیں گے۔ اگرچہ وہ بہترین اعمال کے پایہ کے نہ ہوں گے۔ اور ان کی خطاؤں اور کوتاہیوں کو بالکل ہی نظر انداز کر دیں گے۔