🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة محمد
اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ دَمَّرَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ۫ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ اَمۡثَالُہَا ﴿۱۰﴾
تو کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے؟ اللہ نے ان پر تباہی ڈال دی اور ان کافروں کے لیے بھی اسی جیسی( سزائیں) ہیں۔[10]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
10۔ کیا وہ زمین میں چل پھر کر دیکھتے نہیں کہ جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کا کیا انجام ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں تہس نہس کر دیا اور کافروں کے لئے ایسی ہی (سزائیں) ہوتی [11] ہیں۔
[11] اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ پہلی قوموں نے سرکشی کی راہ اختیار کی تو اللہ نے مختلف قسم کے عذاب بھیج کر انہیں تباہ و برباد کر دیا تھا۔ اسی طرح کے عذاب بھیج کر ان موجودہ کافروں کو بھی تباہ کر سکتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس طرح کافروں کو دنیا میں طرح طرح کی سزائیں دی ہیں۔ اسی طرح کئی طرح کی سزائیں آخرت میں بھی دے گا۔