سو اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر۔[39]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
39۔ پس (اے نبی!) جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں اس پر صبر [45] کیجیے اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ طلوع آفتاب اور غروب سے پہلے تسبیح کیجئے۔
[45] جب کوئی مسلمان اپنے اعداء کی شماتت، تمسخر، تضحیک، ایذا رسانیوں سے تنگ آجائے یا کسی اور وجہ سے مشکلات میں گھر جائے تو اسے صبر و برداشت سے کام لینا چاہئے اور اپنے پروردگار سے لو لگانا چاہئے اسی کو اپنا سہارا سمجھنا چاہئے۔ اسی کی تسبیح و تہلیل اور یاد میں مشغول رہنا چاہئے اس سے اس کی ذہنی کوفت بہت حد تک دور اور ہلکی ہو جائے گی یہی وہ نسخہ کیمیا ہے جس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلقین کی جا رہی ہے اور سب مسلمانوں کو بھی متعدد مقامات پر ایسی ہی تلقین کی گئی ہے۔