🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة النجم
وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ۙ لِیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا وَ یَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا بِالۡحُسۡنٰی ﴿ۚ۳۱﴾
اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے، تاکہ وہ ان لوگوں کو جنھوں نے برائی کی، اس کا بدلہ دے جو انھوں نے کیا اور ان لوگوں کو جنھوں نے بھلائی کی، بھلائی کے ساتھ بدلہ دے۔[31]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
31۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے (جس کا تقاضا یہ ہے) کہ وہ برائی کرنے والوں [21] کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جن لوگوں نے اچھے عمل کئے انہیں اچھا بدلہ دے۔
[21] اس آیت میں واضح طور پر آخرت، اس کی اہمیت اور اس کی حکمت بیان کی گئی ہے یعنی دنیا میں مشرک و موحد، نیک اور بد، متقی اور ظالم کے اعمال کا نتیجہ کبھی اتنا واضح طور پر نہیں نکلا کرتا جس سے انسان بھلائی کی راہ قبول کرنے پر مجبور ہو جائے۔ یہ دنیا صرف دار العمل ہے دار الجزا اخروی زندگی ہے۔ وہاں برے اور بھلے مشرک اور موحد کا فرق اتنا واضح ہو گا جس کو ہر شخص دیکھ بھی لے گا اور عذاب و ثواب اس پر واقع ہو گا۔