🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة النجم
وَ اَنَّہٗ خَلَقَ الزَّوۡجَیۡنِ الذَّکَرَ وَ الۡاُنۡثٰی ﴿ۙ۴۵﴾
اور یہ کہ اسی نے دو قسمیں نر اور مادہ پیدا کیں۔[45]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
45۔ اور یہ کہ اسی نے نر [32] اور مادہ دونوں قسمیں پیدا کیں
[32] یعنی میاں اور بیوی میں سے ہر ایک کا مادہ منویہ تو ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ مگر کبھی ان کے ملاپ سے اللہ بیٹا بنا دیتا ہے اور کبھی بیٹی۔ یعنی حمل قرار پانے کے بعد رحم مادر میں جنین کی ساخت جسمانی میں ایسی تبدیلی پیدا کرنا جس سے کوئی جنین نر بن جائے اور کوئی مادہ۔ یہ اللہ ہی کی قدرت ہے۔ اور جو ذات رحم مادر میں ایسی تبدیلی لا سکتی ہے وہ تمہیں دوبارہ بھی پیدا کر سکتی ہے۔ اور تمہارا دوبارہ پیدا کرنا اس کے ذمہ ہے اور یہی پہلی بار کی پیدائش کا نتیجہ ہے کیونکہ اس کا کوئی کام بلا مقصد اور بے نتیجہ نہیں ہوا کرتا۔