🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة القمر
حِکۡمَۃٌۢ بَالِغَۃٌ فَمَا تُغۡنِ النُّذُرُ ۙ﴿۵﴾
کامل دانائی کی بات ہے، پھر (بھی) ڈرانے والی چیزیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔[5]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
5۔ (ان میں) دانائی کی باتیں ہیں جو اتمام حجت کو کافی ہیں لیکن یہ تنبیہات ان کے کسی کام [5] نہ آئیں۔
[5] یعنی قرآن میں اقوام سابقہ کی سرگزشت کو اس لیے بار بار دہرایا گیا ہے کہ لوگ ان اقوام کے انجام اور عذاب سے عبرت حاصل کریں اور ان واقعات کا ذکر ان کے لیے تازیانہ کا کام دے۔ (جسے شرعی اصطلاح میں تذکیر با یام اللہ کہا جاتا ہے) ان واقعات میں لوگوں کے عبرت اور سبق حاصل کرنے کے لیے مواد تو بہت موجود ہے لیکن اگر کوئی شخص ادھر توجہ ہی نہ کرے تو یہ تنبیہات اس کے کس کام آسکتی ہیں؟