ان کی نظریں جھکی ہوں گی، وہ قبروں سے نکلیں گے جیسے وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہوں۔[7]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
7۔ تو یہ لوگ سہمی سہمی نگاہوں سے اپنی قبروں [8] سے یوں نکل آئیں گے جیسے بکھری ہوئی ٹڈیاں ہوں۔
[8] قبروں سے مراد صرف وہ قبریں نہیں جہاں انہیں دفن کیا گیا تھا۔ ان قبروں کے تو نام و نشان تک باقی نہ رہ جائیں گے۔ بلکہ یہاں قبروں سے مراد وہ مقام ہیں۔ جہاں کسی انسان کے جسم کے ذرات خاک میں ملے ہوئے ہوں گے۔ اور قبروں سے نکلنے کے بعد ان کی نگاہیں سہمی ہونے کی دو وجوہ ہو سکتی ہیں ایک قیامت کے ہولناک مناظر دوسرے ان کی دنیا کی زندگی کی کرتوتیں۔ اسی سہمی ہوئی حالت میں وہ ٹڈی دل کی طرح اس طرف دوڑنا شروع کر دیں گے جدھر سے انہیں پکارا جا رہا ہو گا۔