ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں، جنھیں ان سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ کسی جنّ نے۔[56]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
56۔ ان باغوں میں نگاہ نیچے رکھنے والی [36] عورتیں ہوں گی جنہیں اس سے پہلے کسی انسان یا جن نے چھوا تک نہ ہو گا
[36] ان جنت کی عورتوں کی اولین اور اہم صفت یہ ہو گی کہ وہ شرمیلی اور حیا دار ہوں گی اپنے شوہروں کے سوا کسی دوسرے کو دیکھنے کی کوشش نہ کریں گی۔ انتہائی خوبصورت ہونے کے باوجود دنیا کی عورتوں کی طرح اپنے چاہنے والوں سے آنکھیں ہی آنکھوں میں اشارے کرنے والے نہیں ہوں گی۔ اور ان کی دوسری صفت یہ ہو گی کہ وہ باکرہ یا کنواری ہوں گی۔ اہل جنت کو حوروں کے علاوہ جو عورتیں ملیں گی وہ وہی ہوں گی جو اس دنیا میں ان کی بیویاں تھیں۔ اگر وہ اس دنیا میں صاحب اولاد تھیں یا بوڑھی ہو چکی تھیں۔ تب بھی انہیں نوخیز اور کنواری بنا کر جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنوں میں بھی توالد و تناسل کا سلسلہ موجود ہے۔ اور مومن جن جو جنت میں داخل ہوں گے ان کو بھی نوخیز اور کنواری بنا کر ہی ان کی دنیا کی بیویاں عطا کی جائیں گی۔