اگر وہ تمھیں پائیں تو تمھارے دشمن ہوں گے اور اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں تمھاری طرف برائی کے ساتھ بڑھائیں گے اور چاہیں گے کاش! تم کفر کرو۔[2]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
2۔ اگر وہ تمہیں پا لیں تو تمہارے دشمن بن جائیں اور برے ارادوں سے تم پر دست درازی اور زبان درازی [6] کریں۔ اور یہ چاہیں کہ تم (پھر) کافر بن جاؤ
[6] اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس خوش فہمی کی بنا پر سیدنا حاطبؓ نے یہ کام کیا تھا۔ وہ توقع بھی عبث اور لاحاصل تھی۔ ان کافروں کے دلوں میں تمہارے لیے اس قدر بغض و عناد ہے کہ وہ تمہیں زندہ دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے۔ کسر صرف اتنی ہے کہ ان کا بس نہیں چل رہا۔ اور اگر کسی وقت تم پر ان کا بس چل جائے تو پھر وہ وہی کچھ کریں گے جو پہلے کر چکے ہیں۔ ان کی چیرہ دستیوں سے بچنے کے لیے صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ تم بھی انہی کی طرح پھر سے کافر بن جاؤ اور ان کی جمعیت میں شامل ہو جاؤ۔ بتاؤ کیا تم یہ پسند کرو گے؟