🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة المنافقون
سَوَآءٌ عَلَیۡہِمۡ اَسۡتَغۡفَرۡتَ لَہُمۡ اَمۡ لَمۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ ؕ لَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿۶﴾
ان پر برابر ہے کہ تو ان کے لیے بخشش کی دعا کرے، یا ان کے لیے بخشش کی دعا نہ کرے، اللہ انھیں ہرگز معاف نہیں کرے گا، بے شک اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔[6]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
6۔ آپ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں یا نہ کریں ان کے حق میں برابر ہے (کیونکہ) اللہ انہیں کبھی معاف [10] نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو قطعاً ہدایت [11] نہیں دیتا
[10] اس کی تشریح کے لیے سورۃ توبہ کی آیات نمبر 80 اور 84 کے حواشی دیکھ لیے جائیں جو اس موقعہ پر نازل ہوئی تھیں۔ جب عبد اللہ بن ابی کی وفات واقع ہوئی تھی۔

[11] اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں کہ ایک یہ کہ دعائے مغفرت بھی صرف ان لوگوں کے لئے ہی قبول اور مفید ہو سکتی ہے جو خود بھی ہدایت کے راستے پر چلنا چاہتے ہوں یا چل رہے ہوں، خواہ دعائے مغفرت کرنے والے خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کیوں نہ ہوں۔ دوسری یہ کہ جو لوگ اللہ کی نافرمانی کی روش اختیار کئے ہوئے ہوں انہیں اللہ زبردستی ہدایت کی راہ پر نہیں لایا کرتا۔