🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الملك
قَالُوۡا بَلٰی قَدۡ جَآءَنَا نَذِیۡرٌ ۬ۙ فَکَذَّبۡنَا وَ قُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ ۚۖ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ کَبِیۡرٍ ﴿۹﴾
وہ کہیں گے کیوں نہیں؟ یقینا ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تو ہم نے جھٹلا دیا اور ہم نے کہا اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری، تم تو ایک بڑی گمراہی میں ہی پڑے ہوئے ہو۔[9]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
9۔ وہ کہیں گے: کیوں نہیں، ڈرانے والا تو ہمارے پاس آیا تھا مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہا: اللہ نے تو کچھ نہیں اتارا، تم ہی بڑی گمراہی میں پڑے [13] ہوئے ہو
[13] یہ بڑی گمراہی کیا تھی؟

یہی بعث بعد الموت کا عقیدہ۔ کافر اسے ہی سب سے بڑی گمراہی سمجھتے تھے۔ کہ آج تک تو کوئی شخص مر کر واپس آیا نہیں۔ پھر ہم اس بات کو کیونکر تسلیم کر سکتے ہیں؟