🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الملك
ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ ذَلُوۡلًا فَامۡشُوۡا فِیۡ مَنَاکِبِہَا وَ کُلُوۡا مِنۡ رِّزۡقِہٖ ؕ وَ اِلَیۡہِ النُّشُوۡرُ ﴿۱۵﴾
وہی ہے جس نے تمھارے لیے زمین کو تابع بنا دیا، سو اس کے کندھوں پر چلو اور اس کے دیے ہوئے میں سے کھاؤ اور اسی کی طرف (دوبارہ) اٹھ کر جانا ہے۔[15]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
15۔ وہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے تابع [18] کر رکھا ہے اس کی اطراف میں چلو پھرو اور اللہ کا رزق کھاؤ اور اسی کے پاس تمہیں [19] زندہ ہو کر جانا ہے
[18] ﴿ذَلُوْلٌ﴾ ﴿ذل﴾ بمعنی کمزور اور زبردست ہونا اور ﴿ذَلُوْلٌ﴾ بمعنی کسی چیز کا طوعاً اپنی سرکشی کو چھوڑ کر مطیع و منقاد ہو جانا ہے اور یہ لفظ انسان کا اپنی محنت سے کسی چیز کو اپنا تابع فرمان بنانے اور اس چیز کے تابع فرمان بن جانے کے پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم زمین میں محنت کر کے جیسے فائدے اس سے حاصل کرنا چاہتے ہو کر سکتے ہو۔ اس میں کھیتی باڑی کر سکتے ہو۔ اس سے معدنیات اور دوسرے زمین میں مدفون خزانے نکال سکتے ہو اس میں سفر کر کے تجارتی فوائد حاصل کر سکتے ہو۔

[19] اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل:۔

یعنی زمین سے تم جتنے فائدے اٹھا سکتے ہو اٹھاؤ۔ لیکن یہ بات تمہیں ہر وقت ملحوظ رکھنی چاہئے کہ تم مرنے کے بعد اللہ کے حضور پیش ہونے والے ہو لہٰذا زمین سے فائدے اٹھاتے ہوئے تمہیں دوسروں کی حق تلفی نہ کرنا چاہیے۔