🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة النساء
یَوۡمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ عَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰی بِہِمُ الۡاَرۡضُ ؕ وَ لَا یَکۡتُمُوۡنَ اللّٰہَ حَدِیۡثًا ﴿٪۴۲﴾
اس دن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور رسول کی نا فرمانی کی، چاہیں گے کاش! ان پر زمین برابر کر دی جائے اور وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے۔[42]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
42۔ اس دن جن لوگوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی ہو گی، یہ آرزو کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ [74] اس میں سما جائیں اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے
[74] پھر جب اللہ تعالیٰ کے روبرو ایسے نافرمان لوگوں پر شہادتیں مکمل ہو جائیں گی اور شہادتوں کی بنا پر ان کا جرم ثابت ہو جائے گا تو اس وقت یہ آرزو کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں سما جائیں تاکہ اپنی نافرمانیوں کے برے نتائج اور عذاب سے نجات حاصل کر سکیں۔ لیکن یہ کسی صورت ممکن نہ ہو گا۔