🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الجن
وَّ اَنَّہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّ لَا وَلَدًا ۙ﴿۳﴾
اور یہ کہ بات یہ ہے کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے، اس نے نہ کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ کوئی اولاد۔[3]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
3۔ اور ہمارے پروردگار کی شان بڑی بلند ہے۔ اس [2] نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا
[2] قرآن سننے والے جنوں کی اپنی قوم کو تبلیغ:۔

آیت نمبر 2 اور 3 سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقعہ پر قرآن سننے والے جن مشرک تھے اور ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث سے بھی متاثر تھے۔ قرآن کا بیان سن کر انہیں معلوم ہوا کہ اللہ کی ذات بیوی بیٹوں کی احتیاج سے پاک ہے۔ اور اس کے متعلق ایسا تصور رکھنا سخت گمراہ کن عقیدہ ہے۔ لہٰذا ہم ایسے عقیدہ و خیالات سے توبہ کر کے اللہ اکیلے پر ایمان لاتے ہیں۔