🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الجن
وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنۡ لَّنۡ تَقُوۡلَ الۡاِنۡسُ وَ الۡجِنُّ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ۙ﴿۵﴾
اور یہ کہ ہم نے گمان کیا کہ انسان اور جن اللہ پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں بولیں گے۔[5]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
5۔ اور یہ کہ ہم نے تو یہ سمجھ رکھا تھا کہ انسان اور جن اللہ کے بارے میں کبھی جھوٹ نہیں بول [4] سکتے
[4] یعنی جنوں اور انسانوں کی عظیم اکثریت اگر یہ باتیں کہتی ہے کہ اللہ کی بیوی اور اولاد ہے یا فرشتے اس کی بیٹیاں ہیں یا اللہ نے اپنے پیاروں کو بھی کئی قسم کے اختیارات تفویض کر رکھے ہیں تو وہ جھوٹ کیسے ہو سکتا ہے۔ اتنی عظیم اکثریت جھوٹی بات پر کیسے اتفاق کر سکتی ہے۔ لہٰذا ہم نے بھی ان باتوں کو درست تسلیم کر لیا۔