🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة النساء
وَ مَنۡ یَّکۡسِبۡ خَطِیۡٓىـَٔۃً اَوۡ اِثۡمًا ثُمَّ یَرۡمِ بِہٖ بَرِیۡٓــًٔا فَقَدِ احۡتَمَلَ بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۱۲﴾٪
اور جو بھی کوئی خطا، یا گناہ کمائے پھر اس کی تہمت کسی بے گناہ پر لگا دے تو یقینا اس نے بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھایا۔[112]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
112۔ اور جو شخص کوئی خطا یا گناہ کا کام تو خود کرے پھر اسے کسی بے گناہ کے ذمہ تھوپ دے اس نے بہتان اور صریح گناہ [150] کا بار آپ نے اوپر لاد لیا
[150] کیونکہ اس نے دو جرم کیے ہیں۔ ایک وہ جو خود گناہ کا کام کیا اور دوسرا گناہ اس سے بڑا ہے کہ اس گناہ کو کسی بے قصور کے سر تھوپ کر اسے مجرم بنا دینے کی کوشش کی جائے۔