🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة المائده
اِنۡ تُعَذِّبۡہُمۡ فَاِنَّہُمۡ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغۡفِرۡ لَہُمۡ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱۱۸﴾
اگر تو انھیں عذاب دے تو بے شک وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انھیں بخش دے تو بے شک تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔[118]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
118۔ اگر تو انہیں سزا دے تو وہ تیرے بندے ہی ہیں اور اگر تو انہیں معاف فرما دے۔ [169] تو بلا شبہ تو غالب اور دانا ہے
[169] پھر عیسیٰ ؑ نہایت حکیمانہ انداز میں ان کی سفارش کریں گے پہلے اللہ کی کبریائی بیان کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر تو انہیں عذاب دے گا تو یہ تیرے بندے ہی ہیں نہ دم مار سکتے ہیں نہ بھاگ کر کہیں جا سکتے ہیں اور اگر انہیں معاف ہی فرما دے تو تیری شان غفاری کے کیا کہنے۔ بہرحال تو ہر چیز پر اور ہر کام پر غالب ہے اور تیرا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں۔ تیری حکمت انہیں عذاب کی متقاضی ہے تو بھی تو مختار ہے اور معاف فرما دے تو بھی مختار ہے۔