🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الانعام
وَ مَا تَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ مِّنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِمۡ اِلَّا کَانُوۡا عَنۡہَا مُعۡرِضِیۡنَ ﴿۴﴾
اور ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی نہیں آتی مگر وہ اس سے منہ پھیرنے والے ہوتے ہیں۔[4]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
4۔ اور جب بھی ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی [4] آئی تو وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے
[4] یہاں آیت سے مراد قرآن کی کوئی آیت بھی ہو سکتی ہے کوئی معجزہ اور کوئی واضح دلیل بھی۔ یعنی جو کافر انکار کرنے کا ہی تہیہ کیے بیٹھے ہیں ان کے لیے نہ کوئی دلیل کارگر ہو سکتی ہے، نہ معجزہ اور نہ پند و نصیحت۔