🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

امام محمد بن محمد الباغندي رحمہ اللہ
سوانح حیات
سوانح حیات:
امام ابن بغدادی رحمہ اللہ کے حالات
از: شیخ العرب و العجم بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ
نام و نسب:
امام أبو بكر محمد بن محمد بن سليمان بن حارث بن عبد الرحمن الأزدي، البافندي، الواسطي، البغدادي۔
ولادت:
آپ کی ولادت بَافَند بستی میں 210ھ میں ہوئی۔
تعلیمی مشاغل:
حافظ ذہبی رحمہ اللہ اللہ فرماتے ہیں:
«كَانَ أَوَّلَ سَمَاعِهِ فِي سَنَةٍ سَبْعِ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ» [تذكرة الحفاظ: 2/736]
یعنی آپ نے 227ھ میں حدیث کا پہلا سماع کیا۔
امام بَافَندي رحمہ اللہ نے دیگر محدثین کی طرح تعلیم کا آغاز اپنے آبائی علاقے سے کیا، پھر بغداد، بصرہ، کوفہ، شام اور مصر کے علماء کرام سے استفادہ کیا۔
اساتذہ:
امام بغدادی کے اساتذہ میں سے چند:
◈ امام محمد بن عبد اللہ بن نمير
◈ أبو بكر بن أبي شيبة
◈ عثمان بن أبي شيبة
◈ شيبان بن فروخ الأيلي
◈ امام علي بن المديني
◈ محمد بن عبد الملك بن أبي الشوارب
◈ سويد بن سعيد
◈ هشام بن عمار
◈ حارث بن مسكين
وغیرہ۔ جیسے کبار علماء و محدثین آپ کے شیوخ میں سے ہیں۔ جلیل القدر آئمہ جیسے امام بخاري اور مسلم کے اساتذہ (علي بن المديني، ابن نمير وغیرہ) سے بھی شرف تلمذ حاصل ہے۔
تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کی کثیر تعداد میں سے چند:
◈ حسين بن إسماعيل المحامي
◈ محمد بن مقلد الدوري
◈ أبو بكر الشافعي
◈ وليج بن أحمد
◈ أبو علي ابن الصواف
◈ محمد بن مظفر
◈ أبو عمر بن حيوّة
◈ أبو حفص بن شاهين
◈ أبو بكر ابن المقري
◈ أبو بكر أحمد بن عبدان
◈ عبيد الله بن البواب
علاوہ ازیں عِدَّة كثيرہ نے آپ سے استفادہ کیا۔
حفظ و اتقان:
خطيب بغدادي رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صاحب فہم، حافظ، علوم و فنون کے عالم تھے۔ اکثر احاديث زبانی بیان کرتے تھے۔ میں نے ہسبتہ اللہ طبری سے سنا وہ بیان کرتے ہیں:
یہ اس طرح زبانی احاديث بیان کرتے جیسے قرآن کے حافظ تلاوت قرآن سلاست سے کرتے ہیں۔
إبراهيم بن موسى الخوري سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:
تمہارے پاس مجھ سے زیادہ احاديث ہیں اور وہ تمہیں مجھ سے زیادہ یاد ہیں۔
أحمد بن عبدان فرماتے ہیں:
آپ أبو بكر بن أبي داود سے زیادہ اچھے حفظ کے مالک تھے۔
امام ذهبي فرماتے ہیں:
آپ حفظ میں یکتا اور محدث عراق تھے۔
احاديث سے شغف:
ان کے تعلیمی سفر ان کے علم حدیث سے شغف و شوق کو واضح کرتے ہیں۔
خطيب بغدادي فرماتے ہیں:
بافندي نے احاديث پر بہت زیادہ توجہ دی اور اپنے عہد کے آئمہ و حفاظ سے احاديث لیں۔
احادیث سے تعلق کی کیفیت یہ تھی کہ احمد بن محمد التیمی کہتے ہیں:
میں نے محمد بن احمد الواعظ سے سنا وہ بیان کرتے ہیں،
أبو بكر محمد بن سليمان البافندي ایک مرتبہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، تکبير تحریمہ کے بعد «حدثنا محمد بن سليمان» پڑھنا شروع کر دیا۔ سب نے سبحان اللہ کہا تو پھر «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کی فاتحہ شروع کی۔
خواب میں حدیث کا سوال:
ان سے متعلق یہ بھی مروی ہے کہتے ہیں، مجھے حدیث سے اس قدر محبت تھی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو میں نے ان سے یہ نہیں کہا کہ آپ میرے لیے اللہ سے دعا کریں بلکہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! منصور اور اعمش میں سے حدیث میں زیادہ معتبر کون ہے؟ تو آپ نے مجھ سے کہا: منصور، منصور۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: بعض دفعہ غیر شعوری طور پر نیند اور نماز میں باسند احادیث بیان کرنا شروع کر دیتے تھے۔
فقاہت حدیث:
خطيب بغدادي سے مروی ہے:
أحمد بن علي البَادَ نے فرمایا:
میں نے أبو بكر الالبهري سے سنا، انہوں نے فرمایا: میں نے أبو بكر البافندي سے سنا، وہ فرماتے تھے:
میں تین لاکھ مسائل کا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احاديث سے دے سکتا ہوں۔
البَهري فرماتے ہیں:
میں نے یہ بات أبو الحسن ابن المظفر سے بیان کی (جو اس کتاب کے راوی ہیں) تو انہوں نے کہا: میں نے بھی ان سے یہ سنی ہے۔
یہ حال اس انسان کا ہے جو آئمہ حدیث زہری، ابن المدینی، بخاری و مسلم رحمها اللہ وغیرہ کے سامنے بچوں کی طرح ہے، باغندی کی فقاہت سے ان لوگوں کا بھی رد ہوتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ محدثین فقیہ نہیں تھے، بلکہ ان کی حیثیت پنساریوں کی سی ہے، جبکہ فقاہت ہمارے فقہاء اہل الرائے کا کام ہے، حالانکہ یہ ناممکن اور قابل تعجب ہے کہ فقہاء کہلانے والے علم حدیث کی معرفت کے بغیر کیسے فقیہ بن گئے؟ جبکہ کسی کے بڑے یا چھوٹے فقیہ ہونے کا معیار حدیث کی قلت و کثرت پر ہے۔
امام الأئمة أبو بكر ابن خزيمة رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
کوئی فقیہ اس وقت تک فقیہ نہیں بن سکتا جب تک: عربی ادب کا ماہر نہ ہو، علم حدیث کا ماہر نہ ہو، تفسیر القرآن کا عالم نہ ہو، تاریخ و منسوخ کا عالم نہ ہو۔ [كتاب التوحيد الصغير: 22]