🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سوانح حیات: امام شافعی رحمہ اللہ
سوانح حیات
سوانح حیات:
امام شافعی رحمہ اللہ کے حالات زندگی
امام معظم، مجتہد مقدم امام شافعی رحمہ اللہ ائمہ اربعہ میں سے ہیں جو بیک وقت محدث اور فقیہ تھے۔
آپ کا نام ابو عبداللہ محمد بن ادریس بن عباس بن عثمان بن شافع بن سائب ہے۔ سائب کو غزوہ بدر میں اسلامی مجاہدین نے گرفتار کیا، وہ فدیہ ادا کر کے چھوٹے اور پھر اسلام قبول کیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ، شافع بن سائب کی طرف نسبت کے باعث 'الشافعی' کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ کا سلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب مبارک کے ساتھ عبد مناف پر مل جاتا ہے۔

ولادت و پرورش
آپ کی والدہ یمن کے قبیلہ 'ازد' سے تھیں۔ امام صاحب رجب 150ھ میں غزہ (فلسطین) میں پیدا ہوئے کیونکہ ان کے والد تلاش رزق کے سلسلے میں مکہ سے غزہ ہجرت کر گئے تھے۔ وہ امام شافعی رحمہ اللہ کی پیدائش سے تھوڑا عرصہ قبل فوت ہو گئے، چنانچہ امام صاحب نے یتیمی اور فقیری میں پرورش پائی۔

جب آپ دو سال کے ہوئے تو والدہ آپ کو واپس یمن کے قبیلہ ازد لے آئیں۔ سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا۔ آپ کی آواز بڑی خوبصورت تھی۔ لغت عرب میں پختگی حاصل کرنے کے لیے قبیلہ ہذیل کی سکونت اختیار کی جسے 'افصح العرب' (عرب کا سب سے فصیح) قبیلہ سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے اصمعی رحمہ اللہ جیسے امام اللغۃ (لغت کے امام) اپنے اشعار کی اصلاح امام شافعی رحمہ اللہ سے کرواتے تھے۔

تعلیم و تربیت
جب آپ رحمہ اللہ کی عمر 10 سال ہو گئی تو آپ کی والدہ نے آپ کو مکہ مکرمہ آپ کے چچا کے پاس بھیج دیا تاکہ آپ شہر میں رہ کر علم الانساب حاصل کریں۔ بعد ازاں آپ نے فقہ و حدیث کے امام، مسلم بن خالد زنجی رحمہ اللہ سے تحصیل علم کیا۔ مسلم بن خالد جوہر شناس تھے، امام صاحب کی ذہانت، ذکاوت اور قوت حافظہ نے ان کو بے حد متاثر کیا۔

امام صاحب نے اپنے استاد سے مدینہ منورہ جانے کا خیال ظاہر کیا تو انہوں نے آمادگی ظاہر کی، یوں امام شافعی رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ کے حلقہ درس میں شریک ہو گئے۔ 16 سال تک امام شافعی رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرتے رہے۔ مدینہ میں قیام کے دوران آپ نے ابراہیم بن سعد انصاری رحمہ اللہ اور محمد بن سعید بن فدیک رحمہ اللہ جیسے جید علماء سے بھی علم حاصل کیا۔

درس و تدریس
179ھ میں جب امام مالک رحمہ اللہ فوت ہو گئے تو خلیفہ ہارون الرشید نے آپ کو نجران کا والی بنا کر بھیجا، لیکن حاسدین نے خلیفہ سے شکایت کی جس پر امام شافعی رحمہ اللہ کی 184ھ میں طلبی ہوئی۔ تحقیق کے بعد امام صاحب بری پائے گئے۔

بغداد میں آپ کا محمد بن حسن شیبانی رحمہ اللہ سے تعارف ہوا اور آپ نے ان کی کتب پڑھیں۔ پھر مکہ گئے اور عرصہ 9 سال مکہ میں تعلیم و تدریس میں مشغول رہے، اسی دوران امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ سے استفادہ کیا۔ امام صاحب کا معمول یہ تھا کہ صبح کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک فقہ کا درس دیتے، پھر حدیث کا درس ہوتا، اس کے بعد مجلس وعظ منعقد ہوتی اور علمی مذاکرے ہوتے۔ نماز ظہر کے بعد ادب، عروض، اور عربی گرامر کی تدریس ہوتی اور عصر سے قبل تھوڑی دیر قیلولہ فرماتے۔ رات کا زیادہ تر حصہ عبادت میں گزرتا۔

مختلف تعلیمی و تدریسی اسفار
195ھ میں امام شافعی رحمہ اللہ بغداد چلے گئے۔ دو سال بغداد رہے اور طلباء کو تعلیم دیتے رہے۔ مشہور کتاب 'الرسالہ' اسی دور میں لکھی۔ اس سفر میں چار طلبہ نے خصوصی طور پر آپ سے استفادہ کیا: امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ، ابو ثور رحمہ اللہ، الزعفرانی رحمہ اللہ، الکرابیسی رحمہ اللہ

198ھ میں آپ بغداد سے مصر چلے گئے۔ وہاں بھی آپ سے خلقِ کثیر نے استفادہ کیا۔ آپ کے نمایاں ترین تلامذہ میں ربیع بن سلیمان المرادی رحمہ اللہ اور عبداللہ بن زبیر حمیدی رحمہ اللہ قابل ذکر ہیں۔ اسی دور میں آپ نے جامع عمرو بن العاص میں دروس کا سلسلہ جاری رکھا۔ علاوہ ازیں آپ نے مصر میں پانچ سال تالیف، تدریس اور دیگر علمی سرگرمیوں میں گزارے۔ اسی مصری دور میں امام صاحب میں اجتہاد و استنباط کا خوب ملکہ پیدا ہوا۔

امام شافعی رحمہ اللہ اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم
امام صاحب نے ساری زندگی حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا، اسی باعث علمائے امت نے آپ کو 'ناصر السنۃ' کا لقب دیا۔

حرملہ بن یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:
«كُلُّ مَا قُلْتُ وَكَانَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم خِلافُ قَوْلِى مِمَّا يَصِحُّ فَحَدِيثُ النَّبِيِّ أَوْلى وَلا تُقَلِّدُوْنِى»
میرا ہر وہ قول جس کے خلاف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث آ جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہی قابلِ اقتداء ہے، تم میری تقلید نہ کرنا۔ [آداب الشافعی: ص 68]

◈ امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:
«إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَمْشِي عَلَى الْمَاءِ وَ يَطِيرُ فِي الْهَوَاءِ فَلَا تَغْتَرُّوا بِهِ حَتَّى تُعْرِضُوا أَمْرَهُ عَلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ»
اگر تم کسی آدمی کو پانی پر چلتے ہوئے اور ہواؤں میں اڑتے ہوئے دیکھو تو اس سے متعلق (ولی ہونے کا) دھوکہ نہ کھاؤ، جب تک اس کے اقوال و اعمال کتاب و سنت کے مطابق نہ پا لو۔ [تفسیر ابن کثیر: 1/233]

آپ بلا ریب امامِ اہل سنت ہیں۔ آپ ایمان میں کمی و زیادتی کے قائل تھے۔ اللہ کی صفات پر بغیر تحریف، تاویل اور تشبیہ کے ایمان رکھتے تھے۔

علم و عمل کے امام
◈ امام احمد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ:
جس نے بھی قلم، دوات اٹھائی (یعنی کچھ لکھا) اس کی گردن پر امام شافعی رحمہ اللہ کا احسان ضرور ہے۔

علم کی تاسیس اور اصول و ضوابط اور قواعد وغیرہ کی بنیاد امام شافعی رحمہ اللہ نے ہی رکھی تھی۔ امام شافعی رحمہ اللہ محدث، فقیہ، امام اللغۃ اور نامور شاعر تھے۔ 'دیوان شافعی' کے نام سے امام شافعی رحمہ اللہ کے اعلیٰ درجے کے اشعار کتابی شکل میں موجود ہیں۔

امام صاحب خود اپنے بارے میں فرماتے ہیں:
«وَلَولَا الشِّعرُ بِالعُلَمَاءِ يُزرِي ... لَكُنتُ اليَومَ أَشعَرَ مِن لَبِيدِ»
اگر شعر کہنا علماء کے لیے معیوب نہ ہوتا تو میں آج لبید بن ربیعہ سے بھی بڑا شاعر ہوتا۔

ایک اور شعر میں عجز و انکساری کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:
«نَعِيبُ زَمَانَنَا وَالعَيبُ فِينَا ... وَمَا لِزَمَانِنَا عَيبٌ سِوَانَا»
ہم زمانے کو معیوب قرار دیتے ہیں حالانکہ عیب ہم میں ہیں، اور زمانے میں سوائے ہمارے وجود کے اور کوئی عیب نہیں۔

امام ذہبی رحمہ اللہ نے [سیر اعلام النبلاء] میں ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کی رات تین حصوں میں تقسیم تھی: پہلے پہر لکھتے، پھر نماز میں مصروف ہو جاتے، اور پھر سو جاتے۔

◈ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علم حاصل کرنے کے لیے چھ چیزیں ضروری ہیں:
➊ ذہانت
➋ شوق
➌ محنت
➍ پیسہ (یا جو چیز علم تک پہنچنے کے لیے معاون ہو)
➎ استاد کی صحبت
➏ وقت
یہ بات پتھر پر لکیر کی مانند ہے۔ ان اشیاء میں سے ایک بھی خطا ہو جائے تو انسان تحصیلِ علم سے محروم رہتا ہے۔

اساتذہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے عہد کے کبار اصحابِ علم و فضل سے کسبِ فیض کیا۔ ان ہستیوں میں:
◈ امام دار الہجرہ امام مالک بن انس،
◈ ابراہیم بن سعد،
◈ سفیان بن عیینہ،
◈ داؤد بن عبدالرحمن،
◈ مسلم بن خالد زنجی،
◈ ابراہیم بن یحییٰ اور
◈ عبداللہ بن مؤمل مخزومی جیسے جلیل القدر علمائے ربانیین شامل ہیں۔

تلامذہ
آپ سے خلقِ کثیر نے استفادہ کیا اور آپ علمائے کرام اور طلابِ علم کے مرجع تھے۔ آپ کے شاگردوں میں: امامِ اہل سنت
◈ امام احمد بن حنبل،
◈ سلیمان بن داؤد الہاشمی،
◈ ابو ثور،
◈ ابراہیم بن خالد، اور
◈ محمد بن سعید العطار جیسے کبار اساطینِ علم شامل ہیں۔

تصنیف و تالیف
آپ کی تصنیفات و مؤلفات کی تعداد 140 کے لگ بھگ ہے، جن میں سے چند نمایاں درج ذیل ہیں:
➊ الأم: یہ کتاب آپ کے شاگردوں نے جمع کی۔
➋ السنن المأثورة: یعنی سننِ امام شافعی۔
➌ الرسالة: اس کو 'الکتاب' بھی کہتے ہیں۔
بعض مؤرخین کے مطابق یہ کتاب امام صاحب نے دو مرتبہ تالیف فرمائی۔
➍ مسند الشافعي: یہ محمد بن یعقوب رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کی مختلف کتب سے جمع کی ہے۔
➎ كتاب العقيدة (یا اعتقاد الشافعی رحمہ اللہ)
➏ احكام القرآن
➐ اختلاف الحديث: یہ کتاب الأم کے حاشیہ میں طبع شدہ ہے۔
➑ مسائل في الفقه
➒ اصول الدين ومسائل السنة
➓ ديوان الشافعي: آپ کے فصیح و بلیغ اشعار کا مجموعہ۔
11 كتاب الحجاب
12 الفوائد والحكايات والاخبار
13 الفقه الاكبر
14 المبسوط
15 المناجاة
16 شروط امام الشافعي

ازواج و اولاد
امام صاحب کی ایک اہلیہ اور ایک لونڈی تھیں۔ آپ کی اہلیہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ (دامادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نسل سے تھیں، ان کا سلسلہ نسب حمیدہ بنت نافع بن عیینہ بن عمرو بن عثمان بن عفان ہے۔

آپ کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں؛ دو بیٹے بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے جبکہ بڑے بیٹے ابو عثمان محمد صاحبِ علم و فضل ہوئے۔ بیٹیوں کے نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں کے نام پر فاطمہ اور زینب (رضی اللہ عنہما) تھے۔

وفات
آپ رحمہ اللہ 199ھ میں مصر تشریف لے گئے اور اپنی زندگی کے آخری پانچ سال وہیں گزارے۔ بالآخر علم و حکمت کا یہ عظیم چراغ رجب 204ھ کو دنیا کو اپنی علمی ضیاء پاشیوں سے منور کرتا ہوا ہمیشہ کے لیے بجھ گیا۔