علوم حدیث
تعارض حدیث کے متعلق ایک قاعدے کی وضاحت، محدث نور پوری رحمہ اللہ
یہ ایک امر مسلم ہے کہ دو شرعی دلیلوں کے درمیان حقیقت اور واقع میں تعارض نہیں ہوتا، خواہ وہ شرعی دلائل قرآنی آیات ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہوں۔ مگر بسا اوقات بظاہر دو دلیلوں کے درمیان تعارض نظر آتا ہے اور وہ غوروفکر سے رفع نہیں ہوتا۔ بسا اوقات تعارض کا دور نہ ہونا عقل کی خامی ہوتی ہے، جس سے اختلاف رفع نہیں ہوتا۔ اس لیے بعض علماء یہاں تساقط کا لفظ بولتے ہیں۔ اس لفظ کا استعمال درست نہیں۔ یہ بےادبی اور توہین کا لفظ ہے۔ یہاں توقف کا لفظ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔
جب بظاہر احادیث میں اختلاف آجائے تو اس کے حل کی صورتوں میں اختلاف ہے۔
احناف حضرات کا نظریہ یہ ہے کہ ان دو متعارض حدیثوں میں پہلے نسخ کا طریقہ جاری کریں گے۔ اگر دلائل کے لحاظ سے نسخ کی صورت نہ بن سکے تو پھر ترجیح کا عمل جاری کریں گے۔ راجح پر عمل ہوگا، مرجوح متروک ہوں گی۔ اگر ترجیح بھی نہ ہو سکے تو پھر تطبیق اور توفیق کی شکل اختیار کی جائے گی تاکہ دونوں حدیثوں پر عمل ہوسکے۔ اگر قواعد کے لحاظ سے تطبیق بھی نہ ہوسکے تو پھر تساقط ہوگا۔ تساقط کا مطلب یہ ہے کہ دونوں حدیثیں معرض استدلال سے ساقط ہوجائیں گی۔
لیکن ایسے تعارض حدیث کو حل کرنے کےلیے علماء اہلحدیث کا مسلک وہ ہے جو شرح نخبۃ الفکر، مقدمہ ابن الصلاح، تقریب للنووی اور تدریب للسیوطی والا ہے، کہ تعارض حدیث کی صورت میں سب سے پہلے تطبیق والا عمل جاری کیا جائے گا تاکہ دونوں حدیثوں پر عمل ہوسکے۔ اگر تطبیق ناممکن ہو تو پھر نسخ اختیار کیا جائے گا۔ اگر نسخ بھی ناممکن ہو تو پھر قواعد ترجیح پر عمل کیا جائے گا۔ اگر ترجیح بھی نہ ہوسکے تو پھر توقف ہوگا۔
احناف اور اہلحدیث میں سے کس کی ترتیب زیادہ درست ہے؟ اس مسئلے میں محدثین کی بات زیادہ درست ہے، احناف کے اپنے وضع کردہ دلائل کمزور ہیں، کیونکہ تطبیق کو اولیت دینے سے دونوں حدیثوں پر عمل ہوجائے گا۔ نسخ یا ترجیح کی صورت میں ایک حدیث پر عمل ہوگا اور توقف کی صورت میں دونوں پر عمل نہیں ہوسکتا۔ چونکہ تطبیق والی صورت میں دونوں پر عمل ہوگا، اس لیے تطبیق کو سب سے مقدم کریں گے۔ نسخ اور ترجیح میں سے نسخ مقدم ہوگا کیونکہ ترجیح میں اصول کے مطابق ایک پر عمل ہوگا، لیکن نسخ میں تاریخی طور پر ایک پہلے کی ہوگی اور دوسری بعد کی ہوگی۔ اس طرح شرع خود ہی ایک حدیث کو منسوخ کردے گی۔ لیکن ترجیح میں ہوسکتا ہے کہ وہ تبدیلی اپنی طرف سے ہو۔ اس لیے نسخ ترجیح سے مقدم ہونا چاہیے۔
مولانا انور شاہ فرماتے ہیں کہ ہمارے علماء نے ایک رسالے میں کہا ہے کہ نسخ تطبیق سے مقدم ہے۔ فرماتے ہیں: میرے پاس ایک دلیل ہے کہ نسخ کی دو صورتیں ہیں:
◈ نسخ مصرح
◈ نسخ غیر مصرح
پہلی شکل نسخ مصرح کی یہ ہے کہ تاریخی لحاظ سے یقیناً یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پہلے کی ہے یعنی صراحتاً اس میں تقدیم کے الفاظ ہیں، اور جہاں دو ایسی احادیث آجائیں، جہاں تاریخ معلوم نہ ہوتو یہ شکل غیر مصرح کہلائے گی۔
مولانا انور شاہ فرماتے ہیں کہ ہر نسخ تطبیق سے مقدم نہیں، بلکہ نسخ مصرح مقدم ہوگا۔ یہ سب مانتے ہیں، اس لیے حنفی مذہب پر اشکال ختم ہوگیا۔ اس کی مثال یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اور بعد میں اجازت دے دی۔ یہ نسخ مصرح ہے، ان کے درمیان تطبیق کی ضرورت نہیں بلکہ ممانعت منسوخ اور اجازت والی حدیث ناسخ بن گئی۔ یہ تسلی بخش جواب ہے۔
درحقیقت یہ جواب ہے ہی نہیں کیونکہ تنازع غیر مصرح میں ہے، نہ کہ مصرح میں۔ حالانکہ احناف کہتے ہیں کہ تطبیق سے نسخ غیر مصرح مقدم ہے۔ جس نسخ میں جھگڑا ہے، وہ غیر مصرح ہے، جس کی انہوں نے کوئی دلیل نہیں دی۔ یہ تو ان کا اپنے دعویٰ سے فرار ہے جو اصول شرح نخبۃ الفکر میں ہے، وہ درست ہے کہ پہلے تطبیق، پھر نسخ، پھر ترجیح اور پھر توقف ہوگا۔
ترجیح کی کئی صورتیں ہیں اور وجوہ ترجیح بھی بہت زیادہ ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اقویٰ کو قوی پر اور ضعیف پر قوی کو ترجیح دی جائے گی۔ محدثین نے اس کےلیے ایک عام قاعدہ بنایا ہے کہ صحیحین کی احادیث غیر صحیحین سے متعارض ہوں تو صحیحین کو ترجیح ہوگی۔ اس طرح مرتبہ اولیٰ والی حدیث مرتبہ ثانیہ والی حدیث سے مقدم ہوگی۔
صحیحین کی احادیث کو ترجیح دینے پر ابن ہمام کا اعتراض:
صحیحین کی احادیث کو ترجیح دینے پر ابن ہمام نے اعتراض کیا ہے کہ یہ تحکم اور بے انصافی ہے کہ جب غیر صحیحین کی احادیث رجال صحیحین یا شرط صحیحین پر مشتمل ہوں تو صحیحین کو ترجیح ہوجائے، اس کےلیے انہوں نے چار دلیلیں پیش کی ہیں۔
نمبر1: راجحیت کا مدار شروط وصفات پر ہے:
جس میں صفات اور شروط اعلیٰ ہوں گی، وہ حدیث ترجیح پا جائے گی، اگر ہم فرض کریں کہ ایک حدیث میں صفات اور شروط صحیح والی ہیں تو صحیحین کو ترجیح نہیں دینی چاہیے بلکہ دونوں کو ایک ہی مقام پر رکھنا چاہیے۔
نمبر 2:
ایک محدث حجت کےلیے ایک چیز کو شرط قرار دیتا ہے، دوسرا اسے حجت کےلیے شرط قرار نہیں دیتا، نہ ہی اس شرط کو تسلیم کرتا ہے، بلکہ اس کےبغیر بھی حدیث کو صحیح سمجھتا ہے۔ اب غیر مشروط حدیث اور شرط والی حدیث دونوں کا پلڑا برابر ہوگیا۔ اگر بخاری ومسلم نے زائد شرطیں لگائی ہوئی ہیں، تو دوسرے اس کو شرط ہی نہیں سمجھتے۔ یہ فرق تو تب ہوگا جب وہ بھی اس شرط کو تسلیم کرلیں۔ لہٰذا دونوں حدیثیں برابر ایک ہی درجہ میں ہونی چاہیے۔
نمبر3:
بسا اوقات ایک راوی ایک محدث کےنزدیک ثقہ ہوتا ہے، دوسرے کے نزدیک وہی ضعیف ہوتا ہے۔ اب جس نے اس کو ثقہ سمجھا، وہ اس کی حدیث کو صحیح سمجھے گا۔ اس کو اس درجہ سے نیچے کیوں آنا چاہیے؟
نمبر 4:
بخاری ومسلم کے اندر شرطیں اعلیٰ درجہ کی ہیں۔ دوسروں نے اعلیٰ درجہ کی شرطیں نہیں لگائیں۔ اعلیٰ درجہ کی شرطیں لگا کر یہ سمجھنا کہ یہ واقع کے مطابق ہے۔ حقیقت میں واقع کے مطابق نہ ہو۔ دوسری کتاب میں حدیث شروط کے مطابق ہو تو خطاء کا امکان ہے تو صحیحین کو دوسری کتابوں پر مقدم کرنے والا قاعدہ درست نہیں۔ انہوں نے یہ بات فتح القدیر میں لکھی ہے۔
مولانا عبدالحق بھی ابن الہمام کے پیچھے چل نکلے اور کہا کہ یہ بات صحیح ہے۔ مولانا عبدالحق نے مشکاۃ کی مشہور شرح لمعات اور تفسیر حقانی لکھی ہے۔ ابن ہمام نے اجماعی قاعدہ پر جو تنقید کی ہے، اس کا جواب خود حنفی بزرگ ہی دیتے ہیں۔ مولانا محمد معین صاحب حنفی کی کتاب دراسات اللبیب ہے، جس میں وہ اس کا رد کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر ایک بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ ایک چیز رجال صحیحین ہے، دوسری چیز شروط صحیحین ہے۔ دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ کسی سند میں راوی رجال شیخین سے ہوں تو ضروری نہیں وہ شروط شیخین پر بھی ہو۔ اس کی چند وجوہات ہیں:
پہلی وجہ:
شیخین نے شروط میں صفات وحالات کو ملحوظ رکھا ہے۔ دوسرے محدثین نے اس کا خیال نہیں رکھا۔ مثلاً: ایک شخص اپنے استاد کے پاس زیادہ دیر رہا ہے۔ دوسرا شاگرد تھوڑی دیر رہا ہے۔ ایک شاگرد باہر سے آیا ہے، دوسرا اسی بستی کا رہنے والا ہے تو رواۃ میں یہ جو اعلیٰ درجہ کی صفات ہیں۔ شیخین نے ان کو ملحوظ رکھا ہے، جو دوسروں نے ملحوظ نہیں رکھیں، تو معلوم ہوا کہ رجال شیخین کے آنے سے شروط شیخین کا آنا لازم نہیں آتا۔
دوسری وجہ:
بسا اوقات شیخین کسی ایسے راوی کی حدیث لاتے ہیں جو بعض مخصوص استادوں میں ضعیف ہوتا ہے تو شیخین اس راوی کی وہ روایت کبھی نہیں درج کریں گے، جن میں وہ ان مخصوص اساتذہ کا شاگرد ہے۔ جیسے ہشیم بخاری ومسلم کا راوی ہے لیکن جب وہ زہری سے روایت کرے تو شیخین نے کبھی اس کی روایت نقل نہیں کی یعنی بخاری ومسلم میں ہشیم عن الزہری کہیں بھی موجود نہیں۔ حالانکہ زہری بھی بخاری ومسلم کے راوی ہیں۔ دوسرے محدثین اس بات کا خیال نہیں رکھتے۔
دوسری مثال ہمام راوی کی ہے، اس کے اوپر ابن جریج ہیں تو ہمام اور ابن جریج دونوں بخاری ومسلم کے رواۃ سے ہیں، مگر ہمام جب ابن جریج سے بیان کرے تو قابل قبول نہیں۔ اب یہ دونوں رجال شیخین تو ہیں لیکن شرائط بخاری ومسلم پر پورے نہیں اترتے۔
تیسری وجہ:
بسا اوقات شیخین مختلط رواۃ کی حدیثیں بیان کرتے ہیں اور اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ یہ روایات قبل از اختلاط کی ہیں۔ اگر کہیں قبل از اختلاط اور بعد از اختلاط میں شک ہوجائے تو روایت درج نہیں کریں گے۔ صرف قبل از اختلاط ہی کی روایت بیان کریں گے، بعد از اختلاط والی روایت درج نہیں کریں گے۔ مثلاً: احمد بن عبدالرحمن مصری امام مسلم کے استاد ہیں، جب امام مسلم پڑھ کر آگئے تو بعد میں ان کو اختلاط ہوگیا۔ امام مسلم اختلاط کے بعد کی حدیث درج نہیں کرتے۔ دوسرے محدثین اس بات کا خیال نہیں رکھتے۔
چوتھی وجہ:
امام بخاری ومسلم مدلس کی حدیث بھی بیان کرتے ہیں، جیسے قتادہ اور اعمش ہیں لیکن بخاری ومسلم میں وہی حدیث ہوگی جو اپنے استاد سے مسموع ہوگی، یعنی راوی حدثنا کہے یا پھر کسی طریقہ سے سماعت کی صراحت کرے۔ دوسرے محدثین اس کا خیال نہیں رکھتے۔ اب یہ رجال شیخین تو ہیں لیکن شروط شیخین کو لازم نہیں۔
پانچویں وجہ:
بسا اوقات شیخین متابعات اور شواہد میں ان رجال کی احادیث نقل کرتے ہیں جو رجال ان کی شروط کے مطابق پورے نہیں اترتے۔ متابعات اور شواہد میں ہونے کی وجہ سے یہ رواۃ بخاری ومسلم کے رجال تو ہیں لیکن شروط شیخین پر پورے نہیں، کیونکہ شیخین نے اپنی شرط کی پابندی اصول ومقاصد میں کی ہے۔
چھٹی وجہ:
امام مسلم بسا اوقات علو اور خاص فنی فوائد کے تحت ایک ضعیف راوی کی حدیث اصول میں درج کردیتے ہیں۔ مثلاً: اسباط بن نصر اور احمد بن عیسیٰ کمزور راوی ہیں۔ امام مسلم نے اصول میں ان کی حدیث درج کی ہوئی ہے تو اس پر ابو زرعہ نے امام مسلم سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایسے آدمیوں کی روایت بیان کرتے ہیں جو کہ ضعیف ہیں تو امام مسلم نے جواب دیا کہ میں ان سے صرف وہ احادیث درج کرتا ہوں جن کو ان کے علاوہ ثقہ راویوں نے ان کے شیوخ سے بیان کیا ہے۔ تو وہ حدیث فی نفسہٖ صحیح ہوگی۔ لیکن اگر یہی راوی دوسری کتابوں میں آجائیں تو وہ رجال مسلم تو ہوں گے، لیکن شروط مسلم پر نہیں ہوں گے۔
ساتویں وجہ:
کبھی ایسے بھی ہوتا ہے کہ ایک راوی صرف بخاری کا ہے، مثلاً: عکرمہ۔ مسلم میں یہ راوی موجود نہیں۔ اور سماک بن حرب صرف مسلم کا راوی ہے، بخاری میں نہین۔ دوسری کتابوں میں وہ استاد وشاگرد کے لحاظ سے اکھٹے آجاتے ہیں۔ اس طرح بعض کہتے ہیں: علی شروط الشیخین۔ حالانکہ یہ سند نہ بخاری میں ہے اور نہ مسلم میں ہے۔ صرف رجال شیخین سے غلطی کھا جاتے ہیں۔ اس لیے رجال صحیحین اور شروط صحیحین میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ اس لیے ابن الصلاح نے لکھا ہے کہ جس نے بخاری ومسلم کے راویوں کو دیکھ کر کہہ دیا کہ شرط مسلم پر ہے، یا شرط بخاری پر ہے تو اس نے غلطی اور غفلت برتی ہے۔
ابن ہمام کے دلائل کی طرف توجہ:
انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر کسی حدیث میں رجال شیخین مذکور ہوں تو اس پر صحیحین کی حدیث کو ترجیح دینا درست نہیں۔ تو ان سات وجوہ سےمعلوم ہوا کہ ان کی یہ بات درست نہیں، بلکہ کبھی رجال شیخین والی سند ضعیف بھی ہوتی ہے۔
پہلی دلیل:
انہوں نے کہا تھا: ہم فرض کرلیں کہ دوسری کتاب کی حدیث شروط شیخین پر ہے تو اس میں بھی شروط شیخین ہوں تو صحیحین کو ترجیح دینا نا انصافی ہے۔
جواب:
فرض کرلینا الگ چیز ہے اور خارج میں وجود الگ چیز ہے۔ فرض کرلینے پر کوئی پابندی نہیں۔ ہر کوئی اپنی عقل سے فرض کرسکتا ہے۔ یہاں تو بات واقع کی ہے کہ دو حدیثیں متعارض ہوں تو صحیحین یا غیر صحیحین میں سے ترجیح کس کو ہوگی؟ غیر صحیحین میں شروط شیخین موجود ہیں یا کہ موجود نہیں؟ دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ فرض کرلینا کوئی درست بات نہیں۔ پوری امت کا اتفاق ہے کہ تمام کتب احادیث پر بخاری ومسلم مقدم ہیں کیونکہ ان کو تلقی بالقبول حاصل ہے۔ پھر اگر کوئی یہ کہے کہ شروط شیخین موجود نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ صحیحین میں شرائط کا موجود ہونا مقبول ہوچکا ہے اور اگر غیر صحیحین میں ایک شخص کہے گا کہ شروط ہیں۔ تمام علماء تو نہیں کہتے، پھر ہوسکتا ہے کہ وہ شروط نہ ہوں، اس لیے ترجیح صحیحین ہی کو ہوگی۔
دوسری دلیل کا جواب:
ابن ہمام کی دوسری دلیل کا جواب یہ ہے کہ شروط شیخین صحت حدیث کےلیے نہیں بلکہ انہوں نے اپنی اپنی صحیح احادیث درج کرنے کےلیے عائد کی ہیں۔ مثلاً: راوی کی مروی عنہ سے ملاقات ثابت ہو، پھر ان سے روایت بھی کرے۔ ایسے راوی کی حدیث امام بخاری درج کریں گے۔ یہ صحت حدیث کی شرط نہیں بلکہ علو صحت اسناد کی شرط ہے۔ اب اگر کسی دوسری کتاب میں صحیح حدیث ہے تو وہ صحت پر مبنی ہوگی لیکن بخاری کے ہم پلہ نہیں ہوگی کیونکہ وہ حدیث صحیح ہے اور یہ اصح ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ امام بخاری نے ایک چیز کو شرط قرار دیا ہے، دوسروں نے وہ چیز شرط قرار نہیں دی۔ دوسرا یہ نہیں کہتا کہ میری حدیث بخاری کے مساوی ہے۔ اس لیے کہ وہ بھی یہ بات سمجھتا ہے کہ بخاری کی شرط علو صحت اسناد کےلیے ہے۔ مثلاً: امام بخاری ایک راوی کی حدیث نہیں لیتے، حالانکہ دوسرا محدث اسے ثقہ سمجھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام بخاری اس سے اوثق کی روایت لیں گے۔
پھر یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہیے کہ بخاری ومسلم نے یہ نہیں کہا کہ ہماری کتب دوسری کتب حدیث سے مقدم ہیں۔ بلکہ بعد والے محدثین نے چھان بین کرکے جب دیکھا تو فیصلہ دیا کہ بخاری ومسلم کی حدیثیں دوسری کتب سے مقدم ہیں۔ اس میں شرط ومشروط کا سوال کرنا ہی غلط ہے کیونکہ یہ فیصلہ تو بعد والوں نے کیا ہے۔
تیسری دلیل کا جواب:
دوسری دلیل کا جواب ہی تیسری دلیل کے جواب کےلیے کافی ہے۔
چوتھی دلیل کا جواب:
اس بات کا امکان تو ہوسکتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن جب بعد کے محدثین نے جانچ پڑتال کی تو انہوں نے دیکھا کہ وہ جو حدیثیں لائے ہیں، وہ شرط کے مطابق ہیں۔ اب دونوں کو تلقی بالقبول حاصل ہے۔ صرف امکان کو لے کر اعتراض کرنا درست نہیں۔ اگر احادیث واقع کے مطابق نہ ہوتیں تو ان کو تلقی بالقبول حاصل نہ ہوتی۔
دوسرا جواب:
جس طرح یہ امکان بخاری ومسلم میں ہوسکتا ہے، اسی طرح دوسری کتب حدیث میں بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ دوسری کتب حدیث کو تلقی بالقبول بھی حاصل نہیں۔ اگر بخاری میں ایک فیصد امکان ہے تو دوسری کتب حدیث میں سو فیصد امکان ہوسکتا ہے۔ پھر بھی ترجیح بخاری ومسلم کو ہوگی۔
ابن ہمام کے دلائل بے بنیاد ہیں۔ صرف حدیث کو رد کرنے کےلیے بنائے گئے ہیں۔ تمام مسالک کا تقدیم صحیحین پر اجماع ہے۔ نیز ابن ہمام سے قبل کسی نے یہ نقطہ نہیں اٹھایا۔ ابن ہمام کے بعد عبدالحق دہلوی ان کے پیچھے چلے ہیں۔ صرف احادیث کو رد کرنے کا یہ طریقہ وضع کیا گیا ہے، بلکہ اور بھی بہت سے اصول بنائے گئے ہیں۔
[مرآة البخاري از محدث نور پوري رحمه الله ص: 69 تا 77]
جب بظاہر احادیث میں اختلاف آجائے تو اس کے حل کی صورتوں میں اختلاف ہے۔
احناف حضرات کا نظریہ یہ ہے کہ ان دو متعارض حدیثوں میں پہلے نسخ کا طریقہ جاری کریں گے۔ اگر دلائل کے لحاظ سے نسخ کی صورت نہ بن سکے تو پھر ترجیح کا عمل جاری کریں گے۔ راجح پر عمل ہوگا، مرجوح متروک ہوں گی۔ اگر ترجیح بھی نہ ہو سکے تو پھر تطبیق اور توفیق کی شکل اختیار کی جائے گی تاکہ دونوں حدیثوں پر عمل ہوسکے۔ اگر قواعد کے لحاظ سے تطبیق بھی نہ ہوسکے تو پھر تساقط ہوگا۔ تساقط کا مطلب یہ ہے کہ دونوں حدیثیں معرض استدلال سے ساقط ہوجائیں گی۔
لیکن ایسے تعارض حدیث کو حل کرنے کےلیے علماء اہلحدیث کا مسلک وہ ہے جو شرح نخبۃ الفکر، مقدمہ ابن الصلاح، تقریب للنووی اور تدریب للسیوطی والا ہے، کہ تعارض حدیث کی صورت میں سب سے پہلے تطبیق والا عمل جاری کیا جائے گا تاکہ دونوں حدیثوں پر عمل ہوسکے۔ اگر تطبیق ناممکن ہو تو پھر نسخ اختیار کیا جائے گا۔ اگر نسخ بھی ناممکن ہو تو پھر قواعد ترجیح پر عمل کیا جائے گا۔ اگر ترجیح بھی نہ ہوسکے تو پھر توقف ہوگا۔
احناف اور اہلحدیث میں سے کس کی ترتیب زیادہ درست ہے؟ اس مسئلے میں محدثین کی بات زیادہ درست ہے، احناف کے اپنے وضع کردہ دلائل کمزور ہیں، کیونکہ تطبیق کو اولیت دینے سے دونوں حدیثوں پر عمل ہوجائے گا۔ نسخ یا ترجیح کی صورت میں ایک حدیث پر عمل ہوگا اور توقف کی صورت میں دونوں پر عمل نہیں ہوسکتا۔ چونکہ تطبیق والی صورت میں دونوں پر عمل ہوگا، اس لیے تطبیق کو سب سے مقدم کریں گے۔ نسخ اور ترجیح میں سے نسخ مقدم ہوگا کیونکہ ترجیح میں اصول کے مطابق ایک پر عمل ہوگا، لیکن نسخ میں تاریخی طور پر ایک پہلے کی ہوگی اور دوسری بعد کی ہوگی۔ اس طرح شرع خود ہی ایک حدیث کو منسوخ کردے گی۔ لیکن ترجیح میں ہوسکتا ہے کہ وہ تبدیلی اپنی طرف سے ہو۔ اس لیے نسخ ترجیح سے مقدم ہونا چاہیے۔
مولانا انور شاہ فرماتے ہیں کہ ہمارے علماء نے ایک رسالے میں کہا ہے کہ نسخ تطبیق سے مقدم ہے۔ فرماتے ہیں: میرے پاس ایک دلیل ہے کہ نسخ کی دو صورتیں ہیں:
◈ نسخ مصرح
◈ نسخ غیر مصرح
پہلی شکل نسخ مصرح کی یہ ہے کہ تاریخی لحاظ سے یقیناً یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پہلے کی ہے یعنی صراحتاً اس میں تقدیم کے الفاظ ہیں، اور جہاں دو ایسی احادیث آجائیں، جہاں تاریخ معلوم نہ ہوتو یہ شکل غیر مصرح کہلائے گی۔
مولانا انور شاہ فرماتے ہیں کہ ہر نسخ تطبیق سے مقدم نہیں، بلکہ نسخ مصرح مقدم ہوگا۔ یہ سب مانتے ہیں، اس لیے حنفی مذہب پر اشکال ختم ہوگیا۔ اس کی مثال یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اور بعد میں اجازت دے دی۔ یہ نسخ مصرح ہے، ان کے درمیان تطبیق کی ضرورت نہیں بلکہ ممانعت منسوخ اور اجازت والی حدیث ناسخ بن گئی۔ یہ تسلی بخش جواب ہے۔
درحقیقت یہ جواب ہے ہی نہیں کیونکہ تنازع غیر مصرح میں ہے، نہ کہ مصرح میں۔ حالانکہ احناف کہتے ہیں کہ تطبیق سے نسخ غیر مصرح مقدم ہے۔ جس نسخ میں جھگڑا ہے، وہ غیر مصرح ہے، جس کی انہوں نے کوئی دلیل نہیں دی۔ یہ تو ان کا اپنے دعویٰ سے فرار ہے جو اصول شرح نخبۃ الفکر میں ہے، وہ درست ہے کہ پہلے تطبیق، پھر نسخ، پھر ترجیح اور پھر توقف ہوگا۔
ترجیح کی کئی صورتیں ہیں اور وجوہ ترجیح بھی بہت زیادہ ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اقویٰ کو قوی پر اور ضعیف پر قوی کو ترجیح دی جائے گی۔ محدثین نے اس کےلیے ایک عام قاعدہ بنایا ہے کہ صحیحین کی احادیث غیر صحیحین سے متعارض ہوں تو صحیحین کو ترجیح ہوگی۔ اس طرح مرتبہ اولیٰ والی حدیث مرتبہ ثانیہ والی حدیث سے مقدم ہوگی۔
صحیحین کی احادیث کو ترجیح دینے پر ابن ہمام کا اعتراض:
صحیحین کی احادیث کو ترجیح دینے پر ابن ہمام نے اعتراض کیا ہے کہ یہ تحکم اور بے انصافی ہے کہ جب غیر صحیحین کی احادیث رجال صحیحین یا شرط صحیحین پر مشتمل ہوں تو صحیحین کو ترجیح ہوجائے، اس کےلیے انہوں نے چار دلیلیں پیش کی ہیں۔
نمبر1: راجحیت کا مدار شروط وصفات پر ہے:
جس میں صفات اور شروط اعلیٰ ہوں گی، وہ حدیث ترجیح پا جائے گی، اگر ہم فرض کریں کہ ایک حدیث میں صفات اور شروط صحیح والی ہیں تو صحیحین کو ترجیح نہیں دینی چاہیے بلکہ دونوں کو ایک ہی مقام پر رکھنا چاہیے۔
نمبر 2:
ایک محدث حجت کےلیے ایک چیز کو شرط قرار دیتا ہے، دوسرا اسے حجت کےلیے شرط قرار نہیں دیتا، نہ ہی اس شرط کو تسلیم کرتا ہے، بلکہ اس کےبغیر بھی حدیث کو صحیح سمجھتا ہے۔ اب غیر مشروط حدیث اور شرط والی حدیث دونوں کا پلڑا برابر ہوگیا۔ اگر بخاری ومسلم نے زائد شرطیں لگائی ہوئی ہیں، تو دوسرے اس کو شرط ہی نہیں سمجھتے۔ یہ فرق تو تب ہوگا جب وہ بھی اس شرط کو تسلیم کرلیں۔ لہٰذا دونوں حدیثیں برابر ایک ہی درجہ میں ہونی چاہیے۔
نمبر3:
بسا اوقات ایک راوی ایک محدث کےنزدیک ثقہ ہوتا ہے، دوسرے کے نزدیک وہی ضعیف ہوتا ہے۔ اب جس نے اس کو ثقہ سمجھا، وہ اس کی حدیث کو صحیح سمجھے گا۔ اس کو اس درجہ سے نیچے کیوں آنا چاہیے؟
نمبر 4:
بخاری ومسلم کے اندر شرطیں اعلیٰ درجہ کی ہیں۔ دوسروں نے اعلیٰ درجہ کی شرطیں نہیں لگائیں۔ اعلیٰ درجہ کی شرطیں لگا کر یہ سمجھنا کہ یہ واقع کے مطابق ہے۔ حقیقت میں واقع کے مطابق نہ ہو۔ دوسری کتاب میں حدیث شروط کے مطابق ہو تو خطاء کا امکان ہے تو صحیحین کو دوسری کتابوں پر مقدم کرنے والا قاعدہ درست نہیں۔ انہوں نے یہ بات فتح القدیر میں لکھی ہے۔
مولانا عبدالحق بھی ابن الہمام کے پیچھے چل نکلے اور کہا کہ یہ بات صحیح ہے۔ مولانا عبدالحق نے مشکاۃ کی مشہور شرح لمعات اور تفسیر حقانی لکھی ہے۔ ابن ہمام نے اجماعی قاعدہ پر جو تنقید کی ہے، اس کا جواب خود حنفی بزرگ ہی دیتے ہیں۔ مولانا محمد معین صاحب حنفی کی کتاب دراسات اللبیب ہے، جس میں وہ اس کا رد کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر ایک بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ ایک چیز رجال صحیحین ہے، دوسری چیز شروط صحیحین ہے۔ دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ کسی سند میں راوی رجال شیخین سے ہوں تو ضروری نہیں وہ شروط شیخین پر بھی ہو۔ اس کی چند وجوہات ہیں:
پہلی وجہ:
شیخین نے شروط میں صفات وحالات کو ملحوظ رکھا ہے۔ دوسرے محدثین نے اس کا خیال نہیں رکھا۔ مثلاً: ایک شخص اپنے استاد کے پاس زیادہ دیر رہا ہے۔ دوسرا شاگرد تھوڑی دیر رہا ہے۔ ایک شاگرد باہر سے آیا ہے، دوسرا اسی بستی کا رہنے والا ہے تو رواۃ میں یہ جو اعلیٰ درجہ کی صفات ہیں۔ شیخین نے ان کو ملحوظ رکھا ہے، جو دوسروں نے ملحوظ نہیں رکھیں، تو معلوم ہوا کہ رجال شیخین کے آنے سے شروط شیخین کا آنا لازم نہیں آتا۔
دوسری وجہ:
بسا اوقات شیخین کسی ایسے راوی کی حدیث لاتے ہیں جو بعض مخصوص استادوں میں ضعیف ہوتا ہے تو شیخین اس راوی کی وہ روایت کبھی نہیں درج کریں گے، جن میں وہ ان مخصوص اساتذہ کا شاگرد ہے۔ جیسے ہشیم بخاری ومسلم کا راوی ہے لیکن جب وہ زہری سے روایت کرے تو شیخین نے کبھی اس کی روایت نقل نہیں کی یعنی بخاری ومسلم میں ہشیم عن الزہری کہیں بھی موجود نہیں۔ حالانکہ زہری بھی بخاری ومسلم کے راوی ہیں۔ دوسرے محدثین اس بات کا خیال نہیں رکھتے۔
دوسری مثال ہمام راوی کی ہے، اس کے اوپر ابن جریج ہیں تو ہمام اور ابن جریج دونوں بخاری ومسلم کے رواۃ سے ہیں، مگر ہمام جب ابن جریج سے بیان کرے تو قابل قبول نہیں۔ اب یہ دونوں رجال شیخین تو ہیں لیکن شرائط بخاری ومسلم پر پورے نہیں اترتے۔
تیسری وجہ:
بسا اوقات شیخین مختلط رواۃ کی حدیثیں بیان کرتے ہیں اور اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ یہ روایات قبل از اختلاط کی ہیں۔ اگر کہیں قبل از اختلاط اور بعد از اختلاط میں شک ہوجائے تو روایت درج نہیں کریں گے۔ صرف قبل از اختلاط ہی کی روایت بیان کریں گے، بعد از اختلاط والی روایت درج نہیں کریں گے۔ مثلاً: احمد بن عبدالرحمن مصری امام مسلم کے استاد ہیں، جب امام مسلم پڑھ کر آگئے تو بعد میں ان کو اختلاط ہوگیا۔ امام مسلم اختلاط کے بعد کی حدیث درج نہیں کرتے۔ دوسرے محدثین اس بات کا خیال نہیں رکھتے۔
چوتھی وجہ:
امام بخاری ومسلم مدلس کی حدیث بھی بیان کرتے ہیں، جیسے قتادہ اور اعمش ہیں لیکن بخاری ومسلم میں وہی حدیث ہوگی جو اپنے استاد سے مسموع ہوگی، یعنی راوی حدثنا کہے یا پھر کسی طریقہ سے سماعت کی صراحت کرے۔ دوسرے محدثین اس کا خیال نہیں رکھتے۔ اب یہ رجال شیخین تو ہیں لیکن شروط شیخین کو لازم نہیں۔
پانچویں وجہ:
بسا اوقات شیخین متابعات اور شواہد میں ان رجال کی احادیث نقل کرتے ہیں جو رجال ان کی شروط کے مطابق پورے نہیں اترتے۔ متابعات اور شواہد میں ہونے کی وجہ سے یہ رواۃ بخاری ومسلم کے رجال تو ہیں لیکن شروط شیخین پر پورے نہیں، کیونکہ شیخین نے اپنی شرط کی پابندی اصول ومقاصد میں کی ہے۔
چھٹی وجہ:
امام مسلم بسا اوقات علو اور خاص فنی فوائد کے تحت ایک ضعیف راوی کی حدیث اصول میں درج کردیتے ہیں۔ مثلاً: اسباط بن نصر اور احمد بن عیسیٰ کمزور راوی ہیں۔ امام مسلم نے اصول میں ان کی حدیث درج کی ہوئی ہے تو اس پر ابو زرعہ نے امام مسلم سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایسے آدمیوں کی روایت بیان کرتے ہیں جو کہ ضعیف ہیں تو امام مسلم نے جواب دیا کہ میں ان سے صرف وہ احادیث درج کرتا ہوں جن کو ان کے علاوہ ثقہ راویوں نے ان کے شیوخ سے بیان کیا ہے۔ تو وہ حدیث فی نفسہٖ صحیح ہوگی۔ لیکن اگر یہی راوی دوسری کتابوں میں آجائیں تو وہ رجال مسلم تو ہوں گے، لیکن شروط مسلم پر نہیں ہوں گے۔
ساتویں وجہ:
کبھی ایسے بھی ہوتا ہے کہ ایک راوی صرف بخاری کا ہے، مثلاً: عکرمہ۔ مسلم میں یہ راوی موجود نہیں۔ اور سماک بن حرب صرف مسلم کا راوی ہے، بخاری میں نہین۔ دوسری کتابوں میں وہ استاد وشاگرد کے لحاظ سے اکھٹے آجاتے ہیں۔ اس طرح بعض کہتے ہیں: علی شروط الشیخین۔ حالانکہ یہ سند نہ بخاری میں ہے اور نہ مسلم میں ہے۔ صرف رجال شیخین سے غلطی کھا جاتے ہیں۔ اس لیے رجال صحیحین اور شروط صحیحین میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ اس لیے ابن الصلاح نے لکھا ہے کہ جس نے بخاری ومسلم کے راویوں کو دیکھ کر کہہ دیا کہ شرط مسلم پر ہے، یا شرط بخاری پر ہے تو اس نے غلطی اور غفلت برتی ہے۔
ابن ہمام کے دلائل کی طرف توجہ:
انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر کسی حدیث میں رجال شیخین مذکور ہوں تو اس پر صحیحین کی حدیث کو ترجیح دینا درست نہیں۔ تو ان سات وجوہ سےمعلوم ہوا کہ ان کی یہ بات درست نہیں، بلکہ کبھی رجال شیخین والی سند ضعیف بھی ہوتی ہے۔
پہلی دلیل:
انہوں نے کہا تھا: ہم فرض کرلیں کہ دوسری کتاب کی حدیث شروط شیخین پر ہے تو اس میں بھی شروط شیخین ہوں تو صحیحین کو ترجیح دینا نا انصافی ہے۔
جواب:
فرض کرلینا الگ چیز ہے اور خارج میں وجود الگ چیز ہے۔ فرض کرلینے پر کوئی پابندی نہیں۔ ہر کوئی اپنی عقل سے فرض کرسکتا ہے۔ یہاں تو بات واقع کی ہے کہ دو حدیثیں متعارض ہوں تو صحیحین یا غیر صحیحین میں سے ترجیح کس کو ہوگی؟ غیر صحیحین میں شروط شیخین موجود ہیں یا کہ موجود نہیں؟ دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ فرض کرلینا کوئی درست بات نہیں۔ پوری امت کا اتفاق ہے کہ تمام کتب احادیث پر بخاری ومسلم مقدم ہیں کیونکہ ان کو تلقی بالقبول حاصل ہے۔ پھر اگر کوئی یہ کہے کہ شروط شیخین موجود نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ صحیحین میں شرائط کا موجود ہونا مقبول ہوچکا ہے اور اگر غیر صحیحین میں ایک شخص کہے گا کہ شروط ہیں۔ تمام علماء تو نہیں کہتے، پھر ہوسکتا ہے کہ وہ شروط نہ ہوں، اس لیے ترجیح صحیحین ہی کو ہوگی۔
دوسری دلیل کا جواب:
ابن ہمام کی دوسری دلیل کا جواب یہ ہے کہ شروط شیخین صحت حدیث کےلیے نہیں بلکہ انہوں نے اپنی اپنی صحیح احادیث درج کرنے کےلیے عائد کی ہیں۔ مثلاً: راوی کی مروی عنہ سے ملاقات ثابت ہو، پھر ان سے روایت بھی کرے۔ ایسے راوی کی حدیث امام بخاری درج کریں گے۔ یہ صحت حدیث کی شرط نہیں بلکہ علو صحت اسناد کی شرط ہے۔ اب اگر کسی دوسری کتاب میں صحیح حدیث ہے تو وہ صحت پر مبنی ہوگی لیکن بخاری کے ہم پلہ نہیں ہوگی کیونکہ وہ حدیث صحیح ہے اور یہ اصح ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ امام بخاری نے ایک چیز کو شرط قرار دیا ہے، دوسروں نے وہ چیز شرط قرار نہیں دی۔ دوسرا یہ نہیں کہتا کہ میری حدیث بخاری کے مساوی ہے۔ اس لیے کہ وہ بھی یہ بات سمجھتا ہے کہ بخاری کی شرط علو صحت اسناد کےلیے ہے۔ مثلاً: امام بخاری ایک راوی کی حدیث نہیں لیتے، حالانکہ دوسرا محدث اسے ثقہ سمجھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام بخاری اس سے اوثق کی روایت لیں گے۔
پھر یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہیے کہ بخاری ومسلم نے یہ نہیں کہا کہ ہماری کتب دوسری کتب حدیث سے مقدم ہیں۔ بلکہ بعد والے محدثین نے چھان بین کرکے جب دیکھا تو فیصلہ دیا کہ بخاری ومسلم کی حدیثیں دوسری کتب سے مقدم ہیں۔ اس میں شرط ومشروط کا سوال کرنا ہی غلط ہے کیونکہ یہ فیصلہ تو بعد والوں نے کیا ہے۔
تیسری دلیل کا جواب:
دوسری دلیل کا جواب ہی تیسری دلیل کے جواب کےلیے کافی ہے۔
چوتھی دلیل کا جواب:
اس بات کا امکان تو ہوسکتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن جب بعد کے محدثین نے جانچ پڑتال کی تو انہوں نے دیکھا کہ وہ جو حدیثیں لائے ہیں، وہ شرط کے مطابق ہیں۔ اب دونوں کو تلقی بالقبول حاصل ہے۔ صرف امکان کو لے کر اعتراض کرنا درست نہیں۔ اگر احادیث واقع کے مطابق نہ ہوتیں تو ان کو تلقی بالقبول حاصل نہ ہوتی۔
دوسرا جواب:
جس طرح یہ امکان بخاری ومسلم میں ہوسکتا ہے، اسی طرح دوسری کتب حدیث میں بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ دوسری کتب حدیث کو تلقی بالقبول بھی حاصل نہیں۔ اگر بخاری میں ایک فیصد امکان ہے تو دوسری کتب حدیث میں سو فیصد امکان ہوسکتا ہے۔ پھر بھی ترجیح بخاری ومسلم کو ہوگی۔
ابن ہمام کے دلائل بے بنیاد ہیں۔ صرف حدیث کو رد کرنے کےلیے بنائے گئے ہیں۔ تمام مسالک کا تقدیم صحیحین پر اجماع ہے۔ نیز ابن ہمام سے قبل کسی نے یہ نقطہ نہیں اٹھایا۔ ابن ہمام کے بعد عبدالحق دہلوی ان کے پیچھے چلے ہیں۔ صرف احادیث کو رد کرنے کا یہ طریقہ وضع کیا گیا ہے، بلکہ اور بھی بہت سے اصول بنائے گئے ہیں۔
[مرآة البخاري از محدث نور پوري رحمه الله ص: 69 تا 77]