علوم حدیث
راویِ میں کسی نقص اور عیب کے سبب ضعیف حدیث کی مندرجہ ذیل قسمیں ہیں
◈ موضوع ◈ متروک ◈ منکر ◈ شاذ ◈ معلل یا معلول ◈ مدرج ◈ مقلوب ◈ مضطرب ◈ مصحف
موضوع: اگرراوی کاذب اور جھوٹا ہے اور اس نے اپنی طرف سے سند، یا متنِ حدیث وضع کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیا ہے تواُس کی یہ گڑھی اور بنائی ہوئی حدیث ”موضوع“کہلاتی ہے، اور یہ ضعیف کی سب سے بدترقسم ہے، اس کے مرتکب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کی وعیدسنائی ہے۔
متروك: اگرراوی اپنی عام بول چال میں جھوٹا آدمی ہواور اس کی روایت کردہ حدیث صرف اسی کے واسطے سے مروی ہو، اوروہ حدیث دین کے مُسَلَّمَاتَ کے خلاف ہوتو اس حدیث کو”متروک“کہتے ہیں، اس کا درجہ شناعت وقباحت میں موضوع کے بعدہے۔
منكر (ومعروف): وہ حدیث ہے جس کے راوی کے اندرازحدغفلت، وہم، ظاہری فسق وفجورجیسے برے صفات پائے جاتے ہوں، یاکسی طرح کا کوئی ضعیف راوی کسی ثقہ (عادل وضابط) راوی کے برخلاف روایت کرے: توضعیف کی روایت ”منکر“اورثقہ کی روایت کو ”معروف“ کہاجاتاہے۔
شاذ (ومحفوظ): شاذبھی ضعیف کی ایک قسم ہے، یہ ایسے ثقہ کی روایت کو کہتے ہیں جس نے اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کے خلاف روایت کی ہویا ثقہ نے ثقات کی ایک جماعت کے برخلاف روایت کی ہو، توکم ثقہ اور ثقہ کی روایت کوشاذاوراعلیٰ درجے کے ثقہ یا ثقات کی روایت کو ”محفوظ“کہاجاتاہے، اورظاہربات ہے کہ تعارض کے وقت ”محفوظ“کو ترجیح دی جائے گی۔
معلل (یامعلول): اگرراوی کے اندرنقص ”وہم“ہو تو اس کی روایت کومعلل یا معلول کہتے ہیں، اورسبب کو”علت“ کہتے ہیں، مخفی علت صحتِ حدیث میں قادح ہوتی ہے، اور اس پر بڑے بڑے ماہرمحدثین ہی مطلع ہوپاتے ہیں۔
مدرج: راوی کا اپنی طرف سے اسناد یامتن میں ایسااضافہ جوبظاہر اس کے اوپرکے راوی کے کلام (سندمیں) یامتنِ حدیث ہی سے معلوم ہو، راوی کسی وضاحت کے لئے ایساکرتا ہے لیکن سامع اس کو اصل سندیااصل متن میں سے سمجھ کر روایت کردیتاہے، ادراج کاعلم اس روایت کے کسی اور سند سے مروی ہونے، یاخودراوی کی وضاحت سے ہوتا ہے۔ (تعریف سے ظاہر ہے کہ ادراج سند اورمتن دونوںمیں ہوتا ہے)
مقلوب: سند یا متن میں الٹ پھیرکوکہتے ہیں جیسے کوئی ”کعب بن مرّۃ“ کو”مُرّہ بن کعب“ کر دے، یا روایت میں موجود ابن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگرد”سالم“کی جگہ دوسرے شاگرد ”نافع“ کانام لے لے (یہ مقلوبِ سندہے) یاجیسے مسلم کی مشہورحدیث: «لاَ تَعْلَمُ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِيْنُهُ» کو «لاَ تَعلَمُ يَمِيْنُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ» کردیا ہے۔ (یہ مقلوبِ متن ہے)
مضطرب: کسی ایک ہی حدیث کا اس طرح مختلف شکلوں میں مروی ہونا کہ ان شکلوں کا آپس میں باہم سخت اختلاف ہو، اور ان کے درمیان جمع وتوفیق اورتاویل ممکن نہ ہو، اورتمام روایات قوت میں ایک دوسرے کے برابرہوں، کسی کودوسرے پرکسی صورت میں ترجیح ممکن نہ ہو، اگر کوئی شکل (روایت) قوت میں زیادہ ہوتو پھر اس حدیث کو مضطرب نہیں کہیں گے، راجح شکل پر عمل کریں گے، اسنادی قوت کے علاوہ ترجیح کے اوربھی اسباب وعوامل ہوتے ہیں ان کے لحاظ سے بھی روایت کوترجیح دی جاسکے تواس پر عمل کیاجائے گا۔
وصحف: کسی لفظ کو (جوثقات سے مروی ہو)کسی دوسرے لفظ سے بدل کر روایت کردینا (یہ تبدیلی لفظی اورمعنوی دونوں ہوسکتی ہے)جیسے”العوام بن مُراحم“ (بالراء المهملة) کو العوام بن مُزاحم (بالزاي المعجمة) کر دینا، یا جیسے ”احتجر في المسجد“ (مسجد میں حجرہ بنایا) کو”احتجم في المسجد“ (مسجد میں پچھنا لگایا) کر دینا۔
موضوع: اگرراوی کاذب اور جھوٹا ہے اور اس نے اپنی طرف سے سند، یا متنِ حدیث وضع کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیا ہے تواُس کی یہ گڑھی اور بنائی ہوئی حدیث ”موضوع“کہلاتی ہے، اور یہ ضعیف کی سب سے بدترقسم ہے، اس کے مرتکب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کی وعیدسنائی ہے۔
متروك: اگرراوی اپنی عام بول چال میں جھوٹا آدمی ہواور اس کی روایت کردہ حدیث صرف اسی کے واسطے سے مروی ہو، اوروہ حدیث دین کے مُسَلَّمَاتَ کے خلاف ہوتو اس حدیث کو”متروک“کہتے ہیں، اس کا درجہ شناعت وقباحت میں موضوع کے بعدہے۔
منكر (ومعروف): وہ حدیث ہے جس کے راوی کے اندرازحدغفلت، وہم، ظاہری فسق وفجورجیسے برے صفات پائے جاتے ہوں، یاکسی طرح کا کوئی ضعیف راوی کسی ثقہ (عادل وضابط) راوی کے برخلاف روایت کرے: توضعیف کی روایت ”منکر“اورثقہ کی روایت کو ”معروف“ کہاجاتاہے۔
شاذ (ومحفوظ): شاذبھی ضعیف کی ایک قسم ہے، یہ ایسے ثقہ کی روایت کو کہتے ہیں جس نے اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کے خلاف روایت کی ہویا ثقہ نے ثقات کی ایک جماعت کے برخلاف روایت کی ہو، توکم ثقہ اور ثقہ کی روایت کوشاذاوراعلیٰ درجے کے ثقہ یا ثقات کی روایت کو ”محفوظ“کہاجاتاہے، اورظاہربات ہے کہ تعارض کے وقت ”محفوظ“کو ترجیح دی جائے گی۔
معلل (یامعلول): اگرراوی کے اندرنقص ”وہم“ہو تو اس کی روایت کومعلل یا معلول کہتے ہیں، اورسبب کو”علت“ کہتے ہیں، مخفی علت صحتِ حدیث میں قادح ہوتی ہے، اور اس پر بڑے بڑے ماہرمحدثین ہی مطلع ہوپاتے ہیں۔
مدرج: راوی کا اپنی طرف سے اسناد یامتن میں ایسااضافہ جوبظاہر اس کے اوپرکے راوی کے کلام (سندمیں) یامتنِ حدیث ہی سے معلوم ہو، راوی کسی وضاحت کے لئے ایساکرتا ہے لیکن سامع اس کو اصل سندیااصل متن میں سے سمجھ کر روایت کردیتاہے، ادراج کاعلم اس روایت کے کسی اور سند سے مروی ہونے، یاخودراوی کی وضاحت سے ہوتا ہے۔ (تعریف سے ظاہر ہے کہ ادراج سند اورمتن دونوںمیں ہوتا ہے)
مقلوب: سند یا متن میں الٹ پھیرکوکہتے ہیں جیسے کوئی ”کعب بن مرّۃ“ کو”مُرّہ بن کعب“ کر دے، یا روایت میں موجود ابن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگرد”سالم“کی جگہ دوسرے شاگرد ”نافع“ کانام لے لے (یہ مقلوبِ سندہے) یاجیسے مسلم کی مشہورحدیث: «لاَ تَعْلَمُ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِيْنُهُ» کو «لاَ تَعلَمُ يَمِيْنُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ» کردیا ہے۔ (یہ مقلوبِ متن ہے)
مضطرب: کسی ایک ہی حدیث کا اس طرح مختلف شکلوں میں مروی ہونا کہ ان شکلوں کا آپس میں باہم سخت اختلاف ہو، اور ان کے درمیان جمع وتوفیق اورتاویل ممکن نہ ہو، اورتمام روایات قوت میں ایک دوسرے کے برابرہوں، کسی کودوسرے پرکسی صورت میں ترجیح ممکن نہ ہو، اگر کوئی شکل (روایت) قوت میں زیادہ ہوتو پھر اس حدیث کو مضطرب نہیں کہیں گے، راجح شکل پر عمل کریں گے، اسنادی قوت کے علاوہ ترجیح کے اوربھی اسباب وعوامل ہوتے ہیں ان کے لحاظ سے بھی روایت کوترجیح دی جاسکے تواس پر عمل کیاجائے گا۔
وصحف: کسی لفظ کو (جوثقات سے مروی ہو)کسی دوسرے لفظ سے بدل کر روایت کردینا (یہ تبدیلی لفظی اورمعنوی دونوں ہوسکتی ہے)جیسے”العوام بن مُراحم“ (بالراء المهملة) کو العوام بن مُزاحم (بالزاي المعجمة) کر دینا، یا جیسے ”احتجر في المسجد“ (مسجد میں حجرہ بنایا) کو”احتجم في المسجد“ (مسجد میں پچھنا لگایا) کر دینا۔