السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3189. -- باب: ما جاء في تحديد ذلك بالحولين
-- باب: رضاعت کی مدت دو سال مقرر ہونے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: Q15663
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ} [البقرة: 233] .
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾ ”اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں، (یہ) اس کے لیے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے۔“ [سورة البقرة: 233] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: Q15663]
حدیث نمبر: 15663
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو رَوْقٍ الْهِزَّانِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" لَا رَضَاعَ إِلَّا فِي الْحَوْلَيْنِ فِي الصِّغَرِ".
ہمیں سفیان نے عبداللہ بن دینار سے حدیث بیان کی، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: نہیں رضاعت مگر بچپن کے (ابتدائی) دو سالوں میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15663]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15664
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ:" مَا أُرَاهَا إِلَّا تُحَرِّمُ" فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَبْصِرْ مَا تُفْتِي بِهِ الرَّجُلَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَمَا تَقُولُ أَنْتَ؟ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لَا رَضَاعَةَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ"، فَقَالَ أَبُو مُوسَى:" لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا كَانَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ" هَذَا وَإِنْ كَانَ مُرْسَلًا فَلَهُ شَوَاهِدُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کبیر کی رضاعت کے بارے میں کہا: میں اس کو نہیں سمجھتا مگر وہ حرام ہو چکی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رضاعت وہی ہے جو دو سالوں میں ہو۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم مجھ سے سوال نہ کرو جب تک یہ عالم تمہارے درمیان ہے۔
یہ اگرچہ مرسل ہے، لیکن اس کے لیے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے شواہد موجود ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15664]
یہ اگرچہ مرسل ہے، لیکن اس کے لیے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے شواہد موجود ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15664]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15665
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ مَا أَنْشَزَ الْعَظْمَ وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ" وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مُرْسَلًا فِي الْحَوْلَيْنِ.
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ”رضاعت ان کی ہے جو دو سالوں کے درمیان ہو اور جو گوشت کو بڑھائے اور ہڈیوں کو مضبوط کرے۔“ اسی کے ہم معنی اس کو یحییٰ بن سعید نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دو سالوں کے بارے میں مرسل روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15665]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15666
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ: كَانَ يَقُولُ:" لَا رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”مکمل دو سالوں کے بعد رضاعت نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15666]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15667
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ فَإِنَّهُ يُحَرِّمُ وَإِنْ كَانَ مَصَّةً وَإِنْ كَانَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ".
عکرمہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جو دو سالوں کے درمیان ہے وہ حرمت کو ثابت کرتا ہے، اگرچہ ایک گھونٹ ہو اور اگر دو سالوں کے بعد ہو تو وہ کوئی چیز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15667]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15668
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أبو الْفَضْلُ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ.
عمرو بن دینار، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رضاعت صرف دو سالوں میں ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15668]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15669
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلَ، يَقُولُ: أنا أَبُو الْوَلِيدِ بْنُ بُرْدٍ الْأَنْطَاكِيُّ، نا ⦗٧٦١⦘ الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا يُعْرَفُ بِالْهَيْثَمِ بْنِ جَمِيلٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ مُسْنَدٌ، أَوْ غَيْرُ الْهَيْثَمِ بِوَقْفٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَرُوِّينَا هَذَا التَّحْدِيدُ بِالْحَوْلَيْنِ مِنَ التَّابِعِينَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَالشَّعْبِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت نہیں حرام کرتی مگر جو دو سالوں کے درمیان ہو۔“
ابو احمد کہتے ہیں: ہیثم بن جمیل سے یہ معروف ہے، وہ ابن عیینہ سے سنداً روایت کرتے ہیں اور ہیثم کے علاوہ ابن عباس رضی اللہ عنہما پر یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15669]
ابو احمد کہتے ہیں: ہیثم بن جمیل سے یہ معروف ہے، وہ ابن عیینہ سے سنداً روایت کرتے ہیں اور ہیثم کے علاوہ ابن عباس رضی اللہ عنہما پر یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15669]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 15670
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، نا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" إِذَا وَلَدَتِ الْمَرْأَةُ لَتِسْعَةِ أَشْهُرٍ كَفَاهَا مِنَ الرَّضَاعِ أَحَدٌ وَعِشْرُونَ شَهْرًا، وَإِذَا وَضَعَتْ لَسَبْعَةِ أَشْهُرٍ كَفَاهَا مِنَ الرَّضَاعِ ثَلَاثَةٌ وَعِشْرُونَ شَهْرًا، وَإِذَا وَضَعَتْ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ كَفَاهَا مِنَ الرَّضَاعِ أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ شَهْرًا كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ہمیں داؤد بن ابی ہند نے عکرمہ سے حدیث بیان کی، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب عورت نو ماہ کے بچے کو جنم دے تو اسے اکیس ماہ دودھ پلائے اور اگر سات ماہ کے بچے کو جنم دے تو اسے تئیس (23) ماہ دودھ پلائے اور جب وہ چھ (6) ماہ کے بچے کو جنم دے تو اسے چوبیس (24) ماہ دودھ پلائے، جس طرح اللہ نے فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15670]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح