السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3190. -- باب: شهادة النساء في الرضاع
-- باب: رضاعت کے معاملے میں عورتوں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 15671
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، نا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ جَاءَتْ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا يَعْنِي عُقْبَةَ وَامْرَأَتَهُ قَالَ: فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَعْرَضَ وَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" وَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ عورت آئی، اس نے گمان کیا کہ اس نے ان دونوں کو دودھ پلایا ہے، یعنی عقبہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کو۔ فرماتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے یہ معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: «وَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ؟» ”اور کیسے جب کہ کہا جا چکا۔“
اس کو بخاری رحمہ اللہ نے محمد بن کثیر سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15671]
اس کو بخاری رحمہ اللہ نے محمد بن کثیر سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15671]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15672
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، نا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَابْنُ مَنِيعٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَيَعْقُوبُ، وَدلَّوَيْهِ قَالُوا: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ بِنْتَ فُلَانٍ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَاذِبَةٌ، فَأَعْرَضَ عَنِّي فَجِئْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَقُلْتُ إِنَّهَا كَاذِبَةٌ فَقَالَ:" وَكَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا دَعْهَا عَنْكَ" ⦗٧٦٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
عبید بن ابی مریم، عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے اسے عقبہ رضی اللہ عنہ سے سنا لیکن میں عبید کی حدیث کو زیادہ یاد رکھنے والا ہوں۔ میں نے ایک عورت سے شادی کی، ہمارے پاس ایک سیاہ عورت آئی، اس نے کہا: ”میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔“ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: ”میں نے فلاں کی بیٹی فلاں سے شادی کی، ہمارے پاس ایک سیاہ عورت آئی، اس نے کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اور وہ جھوٹی ہے۔“ اس نے مجھ سے مباحثہ کیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے چہرے کی طرف سے آیا اور میں نے کہا: ”وہ جھوٹی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیسے ہو سکتا ہے حالانکہ اس کا خیال ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے؟ تو اس بیوی کو چھوڑ دے۔“
اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں علی بن عبداللہ اور اسماعیل سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15672]
اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں علی بن عبداللہ اور اسماعیل سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15672]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15673
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ، نا أَبُو قِلَابَةَ، نا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ، أَوْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي أَهَابٍ فَجَاءَتْ أَمَةٌ سَوْدَاءٌ فَقَالَتْ: قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَتَنَحَّيْتُ ثُمَّ ذَكَرْتُهُ لَهُ فَقَالَ:" كَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا" فَنَهَاهُ عَنْهَا لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ يَحْيَى هَكَذَا مُدْرَجًا.
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی یا میں نے ان سے سنا کہ انہوں نے ام یحییٰ بنت ابی اہاب رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ ایک سیاہ لونڈی آئی، اس نے کہا: ”میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔“ میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اعراض فرمایا۔ میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے) دوسری طرف سے آیا اور اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب کیسے ہو سکتا ہے جبکہ وہ گمان کرتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے روک دیا۔
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کی حدیث کے الفاظ کو امام بخاری رحمہ اللہ نے ابو عاصم اور علی بن عبداللہ سے، یحییٰ سے اسی طرح صحیح میں مدرج روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15673]
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کی حدیث کے الفاظ کو امام بخاری رحمہ اللہ نے ابو عاصم اور علی بن عبداللہ سے، یحییٰ سے اسی طرح صحیح میں مدرج روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15673]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15674
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ نَكَحَ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي أَهَابٍ فَقَالَتْ أَمَةٌ سَوْدَاءُ: قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَعْرَضَ فَتَنَحَّيْتُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ:" كَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا" قَالَ الشَّافِعِيُّ: إِعْرَاضُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ لَمْ يَرَهَا شَهَادَةً تُلْزِمُهُ وَقَوْلُهُ:" كَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا" يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ كَرِهَ لَهُ أَنْ يُقِيمَ مَعَهَا وَقَدْ قِيلَ لَهُ إِنَّهَا أُخْتُهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَهَذَا مَعْنَى مَا قُلْنَا مِنْ أَنْ يَتْرُكَهَا وَرَعًا لَا حُكْمًا.
ابن جریج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ نے خبر دی کہ عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے ام یحییٰ بنت ابو اہاب سے نکاح کیا۔ ایک سیاہ لونڈی آئی، اس نے کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض فرمایا۔ میں دوسری طرف سے آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ کیسے ممکن ہے جبکہ اس کا گمان ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے؟“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعراض فرمانا اس بات کے مناسب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی گواہی کو ایسا نہیں سمجھتے تھے جو اس (نکاح کے فسخ) کو لازم کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول: ”کیسے وہ گمان کرتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے“، یہ اس بات کے مشابہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ اس کے قیام کو ناپسند کر رہے تھے اور اس کو کہا گیا کہ وہ تیری رضاعی بہن ہے؛ اور اس کا معنی جو ہم نے کہا کہ وہ اس کو چھوڑ دے «وَرَعًا» ”بطورِ تقویٰ“ ہے، یعنی تقویٰ یہ ہے، حکماً نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15674]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعراض فرمانا اس بات کے مناسب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی گواہی کو ایسا نہیں سمجھتے تھے جو اس (نکاح کے فسخ) کو لازم کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول: ”کیسے وہ گمان کرتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے“، یہ اس بات کے مشابہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ اس کے قیام کو ناپسند کر رہے تھے اور اس کو کہا گیا کہ وہ تیری رضاعی بہن ہے؛ اور اس کا معنی جو ہم نے کہا کہ وہ اس کو چھوڑ دے «وَرَعًا» ”بطورِ تقویٰ“ ہے، یعنی تقویٰ یہ ہے، حکماً نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15674]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15675
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، نا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَجُلًا وَامْرَأَتَهُ أَتَيَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَجَاءَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: إِنِّي أَرْضَعْتُكُمَا فَأَبَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَأْخُذَ بِقَوْلِهَا فَقَالَ:" دُونَكَ امْرَأَتَكَ" هَذَا مُرْسَلٌ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اور اس کی بیوی دونوں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ایک عورت آئی، اس نے کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے قول کو قبول کرنے سے انکار کیا اور فرمایا: تیری عورت تیرے لیے ہے۔
یہ مرسل ہے اور دوسری سند سے روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15675]
یہ مرسل ہے اور دوسری سند سے روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15675]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15676
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، وَالْحَجَّاجُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، ⦗٧٦٣⦘ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ فِي امْرَأَةٍ شَهِدَتْ عَلَى رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا فَقَالَ:" لَا حَتَّى يَشْهَدَ رَجُلَانِ أَوْ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ" أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنَا الرَّبِيعُ، أَنَا الشَّافِعِيُّ، أَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: لَا تَجُوزُ مِنَ النِّسَاءِ أَقَلُّ مِنْ أَرْبَعٍ.
عکرمہ بن خالد مخزومی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی، اس نے ایک شخص اور اس کی بیوی کے خلاف گواہی دی کہ اس نے ان دونوں کو دودھ پلایا ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، یہاں تک کہ دو آدمی یا ایک آدمی اور دو عورتیں گواہی دیں۔ ہم کو ابو سعید بن ابی عمرو نے خبر دی کہ ہمیں ربیع نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: ہمیں امام شافعی رحمہ اللہ نے خبر دی، ہمیں مسلم نے ابن جریج سے خبر دی، وہ عطاء سے بیان کرتے ہیں کہ عورتوں سے کم کی گواہی جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15676]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15677
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، نا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، نا عَفَّانُ، نا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، نا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عُثَيْمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: سُئِلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَجُوزُ فِي الرَّضَاعِ مِنَ الشُّهُودِ قَالَ: فَقَالَ" رَجُلٌ أَوِ امْرَأَةٌ" فَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ الْحُجَّةُ مُحَمَّدُ بْنُ عُثَيْمٍ يُرْمَى بِالْكَذِبِ وَابْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ ضَعِيفٌ وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي مَتْنِهِ فَقِيلَ هَكَذَا وَقِيلَ رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ وَقِيلَ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: رضاعت کے بارے میں کن کی گواہی جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی یا ایک عورت کی گواہی۔“ یہ ضعیف اسناد ہیں، اس کی طرح کی اسناد کو حجت نہیں بنایا جا سکتا۔ محمد بن عثیم کو جھوٹ کی تہمت لگائی گئی ہے اور ابن بیلمانی ضعیف ہے اور اس پر متن میں اختلاف کیا گیا ہے، اسی طرح ہے اور کہا گیا ہے کہ ایک آدمی اور عورت اور کہا گیا ہے: ایک آدمی اور دو عورتیں، اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15677]