🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3218. -- باب: اجتناب الوجه في الضرب للتأديب والحد
-- باب: تادیب اور حد لگانے کے لیے مارتے وقت چہرے پر مارنے سے بچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15804
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ: مَا اسْمُكَ؟ قُلْتُ: شُعْبَةُ. قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو شُعْبَةَ، وَكَانَ لَطِيفًا، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَطَمَ رَجُلٌ غُلَامًا لَهُ أَوْ إِنْسَانًا، فَقَالَ سُوَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ؟ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةِ إِخْوَةٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ، فَلَطَمَهُ أَحَدُنَا، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَعْتِقَهُ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ شُعْبَةَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: فِي الْحَدِيثِ فَضَرَبَ أَحَدُنَا وَجْهَهُ.
شعبہ کہتے ہیں: محمد بن المنکدر نے میرا نام پوچھا، میں نے بتایا: ”شعبہ“، تو وہ کہنے لگے: ہمیں ابو شعبہ نے بیان کیا اور وہ سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے غلام یا کسی انسان کو تھپڑ مار دیا تو سوید کہنے لگے: کیا تجھے پتا نہیں کہ چہرے کی بڑی حرمت ہے؟ میں نے عہدِ رسالت میں سات بھائیوں کو دیکھا جن کا ایک غلام تھا، ایک نے غلام کو تھپڑ مارا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتوں کو حکم دیا کہ ”اسے آزاد کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15804]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15805
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوِيهِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَسَافٍ، يَقُولُ: كُنَّا نَبِيعُ الْبَزَّ فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ لَهُ، فَقَالَتْ لِرَجُلٍ شَيْئًا، فَلَطَمَهَا ذَلِكَ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَطَمْتَ وَجْهَهَا؟ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ وَمَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ، فَلَطَمَهَا بَعْضُنَا، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يُعْتِقُهَا. لَفْظُ حَدِيثِ آدَمَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ.
حصین بن عبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ہلال بن یساف رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر میں کپڑے کا کام کیا کرتے تھے، ایک لونڈی آئی، اس نے کسی شخص کو کچھ کہا تو اس نے اس کے چہرے پر تھپڑ مار دیا، تو سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”کیا تو نے اس چہرے پر تھپڑ مارا ہے؟ ہم سات بھائی تھے، ہمارا غلام ایک تھا، ایک بھائی نے اسے تھپڑ مار دیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتوں کو حکم دیا کہ: ”اسے آزاد کر دو۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15805]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15806
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا فَهَرَبْتُ، ثُمَّ جِئْتُ قُبَيْلَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي، فَدَعَاهُ وَدَعَانِي، ثُمَّ قَالَ: اقْتَصَّ مِنْهُ. فَعَفَا، ثُمَّ قَالَ: كُنَّا بَنِي مُقَرِّنٍ عَلَى عَهْدِ ⦗٢١⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدٌ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَعْتِقُوهَا". قَالُوا: لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرُهَا. قَالَ:" فَلْيَسْتَخْدِمُوهَا، وَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْهَا فَخَلُّوا سَبِيلَهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَفِي هَذَا كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْإِعْتَاقِ أَمْرُ نَدْبٍ وَاسْتِحْبَابٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
معاویہ بن سوید رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے ایک آزاد کردہ غلام کو تھپڑ مار دیا اور بھاگ گیا، پھر ظہر سے کچھ پہلے آیا اور اپنے والد کے پیچھے نماز پڑھی۔ میرے والد رضی اللہ عنہ نے اس غلام کو اور مجھے بلایا اور (غلام سے) کہا: اس سے بدلہ لے لو، تو اس نے معاف کر دیا۔ پھر کہنے لگے: ہم بنی مقرن کے پاس عہدِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک ہی خادمہ تھی، ہم میں سے ایک نے اسے تھپڑ مار دیا، یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو۔“ لوگوں نے عرض کیا کہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی خادم نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، اس سے خدمت لیتے رہیں، جب اس کی ضرورت نہ رہے تو پھر اسے آزاد چھوڑ دیں۔“
اسے امام مسلم نے صحیح میں ابوبکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، اور اس میں گویا اس بات کی دلیل ہے کہ آزاد کرنے کا حکم وجوب کے لیے نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15806]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں