🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3218. -- باب: اجتناب الوجه في الضرب للتأديب والحد
-- باب: تادیب اور حد لگانے کے لیے مارتے وقت چہرے پر مارنے سے بچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15806
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا فَهَرَبْتُ، ثُمَّ جِئْتُ قُبَيْلَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي، فَدَعَاهُ وَدَعَانِي، ثُمَّ قَالَ: اقْتَصَّ مِنْهُ. فَعَفَا، ثُمَّ قَالَ: كُنَّا بَنِي مُقَرِّنٍ عَلَى عَهْدِ ⦗٢١⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدٌ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَعْتِقُوهَا". قَالُوا: لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرُهَا. قَالَ:" فَلْيَسْتَخْدِمُوهَا، وَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْهَا فَخَلُّوا سَبِيلَهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَفِي هَذَا كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْإِعْتَاقِ أَمْرُ نَدْبٍ وَاسْتِحْبَابٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
معاویہ بن سوید رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے ایک آزاد کردہ غلام کو تھپڑ مار دیا اور بھاگ گیا، پھر ظہر سے کچھ پہلے آیا اور اپنے والد کے پیچھے نماز پڑھی۔ میرے والد رضی اللہ عنہ نے اس غلام کو اور مجھے بلایا اور (غلام سے) کہا: اس سے بدلہ لے لو، تو اس نے معاف کر دیا۔ پھر کہنے لگے: ہم بنی مقرن کے پاس عہدِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک ہی خادمہ تھی، ہم میں سے ایک نے اسے تھپڑ مار دیا، یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو۔“ لوگوں نے عرض کیا کہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی خادم نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، اس سے خدمت لیتے رہیں، جب اس کی ضرورت نہ رہے تو پھر اسے آزاد چھوڑ دیں۔“
اسے امام مسلم نے صحیح میں ابوبکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، اور اس میں گویا اس بات کی دلیل ہے کہ آزاد کرنے کا حکم وجوب کے لیے نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15806]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15806 in Urdu