السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3359. -- باب: الأئمة من قريش
-- باب: ائمہ (حکمرانوں) کا قبیلہ قریش میں سے ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16531
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَأَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: ثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ، مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ، وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ اس معاملے میں قریش کے تابع ہیں، ان کے مسلمان تابع ہیں ان کے مسلمانوں کے اور کفار کفار کے۔“ [صحیح] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16531]
حدیث نمبر: 16532
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَىَّ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ"، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ رَوْحٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل فرماتے ہیں کہ ”لوگ خیر اور شر دونوں میں قریش کے تابع ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16532]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا الْأَسْفَاطِيُّ، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا كَانَ فِي النَّاسِ اثْنَيْنِ" وَفِي رِوَايَة الدَّارِمِيِّ:" مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امارت ہمیشہ قریش میں رہے گی جب تک لوگوں میں دو آدمی بھی باقی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16533]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16534
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ⦗٢٤٤⦘ ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ بْنِ خَلِيٍّ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، ح وَأَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَشِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثَنَا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَلَغَ مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَيَكُونُ مَلِكٌ مِنْ قَحْطَانَ، فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ فَقَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَحَادِيثَ لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ وَلَا تُؤْثَرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُولَئِك جُهَّالُكُمْ، إِيَّاكُمْ وَالْأَمَانِيَّ الَّتِي تُضِلُّ أَهْلَهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ، لَا يُعَادِيهِمْ فِيهِ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللهُ عَلَى وَجْهِهِ، مَا أَقَامُوا الدِّينَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ..
محمد بن جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی اور وہ قریش کے وفد کے پاس تھے کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عنقریب بادشاہ قحطان سے ہوگا تو معاویہ رضی اللہ عنہ شدید غصہ ہوئے اور کھڑے ہوئے، اللہ کی ثناء بیان کی۔ پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثناء کے بعد!“ مجھے پتا چلا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں جو نہ کتاب اللہ میں ہیں اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہیں۔ یہ تم میں سے جاہل لوگ ہیں۔ اپنے آپ کو ایسی خواہشات سے بچاؤ جو تمہیں گمراہ کر دیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”امارت ہمیشہ قریش میں رہے گی جب تک وہ دین پر رہیں گے اور جو ان سے دشمنی کرے گا اللہ اسے منہ کے بل گرا دے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16534]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16535
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّهُ كَانَ مِنْ خَبَرِنَا حِينَ تَوَفَّى اللهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، وَخَالَفَ عَنَّا عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَمَن مَعَهُمَا، وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا أَبَا بَكْرٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى إِخْوَانِنَا هَؤُلَاءِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَانْطَلَقْنَا نُرِيدُهُمْ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ لَقِيَنَا مِنْهُمْ رَجُلَانِ صَالِحَانِ، فَذَكَرَا مَا تَمَالَأَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ، فَقَالَا: أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ؟ فَقُلْنَا: نُرِيدُ إِخْوَانَنَا هَؤُلَاءِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَا: لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَقْرَبُوهُمُ، اقْضُوا أَمَرَكُمْ، فقُلْتُ: وَاللهِ لَنَأْتِيَنَّهُمْ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَاهُمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، فَإِذَا رَجُلٌ مُزَمَّلٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقُلْتُ: مَا لَهُ؟ قَالُوا: يُوعَكُ. فَلَمَّا جَلَسْنَا قَلِيلًا تَشَهَّدَ خَطِيبُهُمْ، فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ وَكَتِيبَةُ الْإِسْلَامِ، وَأَنْتُمْ مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ رَهْطٌ مِنَّا، وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ قَوْمِكُمْ فَإِذَا هُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْتَزِلُونَا مِنْ أَصْلِنَا، وَأَن يَحْضُنُونَا مِنَ الْأَمْرِ. قَالَ: فَلَمَّا سَكَتَ أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، وَكُنْتُ زَوَّرْتُ مَقَالَةً أَعْجَبَتْنِي أُرِيدُ أَنْ أُقَدِّمَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكُنْتُ أُدَارِئُ عَنْهُ بَعْضَ الْحَدِّ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عَلَى رِسْلِكَ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُغْضِبَهُ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَانَ هُوَ أَحْلَمَ ⦗٢٤٥⦘ مِنِّي وَأَوْقَرَ، وَاللهِ مَا تَرَكَ مِنْ كَلِمَةٍ أَعْجَبَتْنِي فِي تَزْوِيرِي إِلَّا قَالَ فِي بَدِيهَتِهِ مِثْلَهَا أَوْ أَفْضَلَ مِنْهَا حَتَّى سَكَتَ، قَالَ: مَا ذَكَرْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَأَنْتُمْ لَهُ أَهْلٌ، وَلَنْ نَعْرِفَ هَذَا الْأَمْرَ إِلَّا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ، هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا وَقَدْرًا، وَقَدْ رَضِيتُ لَكُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ فَبَايِعُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ، وَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَنَا، فَلَمْ أَكْرَهْ مِمَّا قَالَ غَيْرَهَا، كَانَ وَاللهِ أَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي لَا يُقَرِّبُنِي ذَلِكَ مِنْ إِثْمٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَأَمَّرَ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، اللهُمَّ إِلَّا أَنْ تُسَوِّلَ لِي نَفْسِي عِنْدَ الْمَوْتِ شَيْئًا لَا أَجِدُهُ الْآنَ، فَقَالَ قَائِلُ الْأَنْصَارِ: أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَكَّكُ، وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَّبُ، مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ. وَكَثُرَ اللَّغَطُ وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ حَتَّى فَرِقْتُ مِنْ أَنْ يَقَعَ اخْتِلَافٌ، فَقُلْتُ: ابْسُطْ يَدَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَبَسَطَ يَدَهُ، فَبَايَعْتُهُ وَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ، ثُمَّ بَايَعَتْهُ الْأَنْصَارُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو ہمیں پتہ چلا کہ انصار (ہماری) مخالفت کر رہے ہیں اور وہ سب سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہیں، اور سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما اور جو ان کے ساتھ تھے، وہ بھی ہم سے الگ رہے۔ مہاجرین جمع ہو گئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے۔ میں نے کہا: اے ابوبکر! ہمارے ساتھ ان انصاری بھائیوں کے پاس چلیں۔ ہم ان کی طرف روانہ ہوئے، جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ان میں سے دو نیک آدمی ہمیں ملے، انہوں نے وہ بات بتائی جس پر لوگ متفق ہو گئے تھے اور پوچھا: اے مہاجرین! کہاں جا رہے ہو؟ ہم نے کہا: اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس۔ انہوں نے کہا: ان کے پاس نہ جاؤ، اپنے معاملے کا فیصلہ (خود ہی) کر لو۔ میں نے کہا: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ ہم ضرور ان کے پاس جائیں گے۔ ہم گئے اور سقیفہ بنی ساعدہ میں ان کے پاس پہنچے تو وہاں ان کے درمیان ایک شخص چادر میں لپٹا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے پوچھا: انہیں کیا ہوا ہے؟ بتایا گیا: انہیں بخار ہے۔ ہم تھوڑی ہی دیر بیٹھے تھے کہ ان کے خطیب نے کلمہ شہادت پڑھا، اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کی جیسی اس کی شان کے لائق ہے، پھر کہا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد!“ ہم اللہ کے (دین کے) مددگار اور اسلام کا لشکر ہیں اور تم اے مہاجرین! ہم میں سے ایک چھوٹی سی جماعت ہو، اور تمہاری قوم کے کچھ لوگ آہستہ آہستہ آ گھسے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں ہماری جڑ سے کاٹ دیں اور ہمیں امارت سے الگ کر دیں۔ جب وہ خاموش ہو گیا تو میں نے بات کرنے کا ارادہ کیا، میں نے ایک تقریر تیار کر رکھی تھی جو مجھے پسند تھی، میں چاہتا تھا کہ اسے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کروں، اور میں ان کے معاملے میں اپنی کچھ تیزی سے بچتا تھا۔ جب میں نے بات کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رک جاؤ۔ مجھے انہیں ناراض کرنا اچھا نہ لگا، چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی، وہ مجھ سے زیادہ بردبار اور باوقار تھے۔ اللہ کی قسم! میری تیار کردہ تقریر میں جو بات بھی مجھے پسند تھی انہوں نے فی البدیہہ ویسی ہی یا اس سے بہتر بات کہہ دی، یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گئے۔ انہوں نے فرمایا: تم نے جو بھی بھلائیاں اپنے متعلق بیان کی ہیں تم ان کے اہل ہو، لیکن یہ امارت قریش کے اسی قبیلے ہی کے لیے پہچانی جائے گی؛ یہ نسب، گھرانے اور مرتبے کے لحاظ سے تمام عرب میں اوسط (بہترین) ہیں، اور میں تمہارے لیے ان دو آدمیوں میں سے ایک پر راضی ہوں، تم جس کے ہاتھ پر چاہو بیعت کر لو، پھر انہوں نے میرا اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا، اور وہ ہمارے درمیان بیٹھے تھے۔ ان کی گفتگو میں سے مجھے اس کے سوا کوئی بات ناگوار نہ گزری۔ «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ مجھے آگے کر کے میری گردن مار دی جاتی، بشرطیکہ یہ مجھے کسی گناہ کے قریب نہ کرے، تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ میں ایسی قوم کا امیر بنوں جس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہوں، الا یہ کہ موت کے وقت میرا نفس مجھے کوئی ایسی بات سجھا دے جو اب میں (اپنے اندر) نہیں پاتا۔ پھر انصار کا ایک کہنے والا کہنے لگا: میں اس کا وہ تنا ہوں جس سے (خارش زدہ اونٹ) رگڑ کر شفا پاتے ہیں اور اس کا وہ کھجور کا درخت ہوں جسے سہارا دیا گیا ہو (یعنی میری رائے سے مسئلے حل ہوتے ہیں)؛ اے قریشیو! ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے۔ (یہ سن کر) شور بہت بڑھ گیا اور آوازیں بلند ہونے لگیں یہاں تک کہ مجھے اختلاف پیدا ہو جانے کا ڈر ہوا تو میں نے کہا: اے ابوبکر! اپنا ہاتھ بڑھائیں، انہوں نے ہاتھ بڑھایا تو میں نے ان کی بیعت کر لی، پھر مہاجرین نے بیعت کی اور اس کے بعد انصار نے بیعت کر لی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16535]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16536
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِيُّ ابْنُ الْحَمَّامِيِّ، رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ، وَأَنَا أَسْمَعُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالسُّنْحِ، فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَاللهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ مَا كَانَ يَقَعُ فِي نَفْسِي إِلَّا ذَاكَ، وَلَيَبْعَثَنَّهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقْطَعَنَّ أَيْدِيَ رِجَالٍ وَأَرْجُلَهُمْ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَشَفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَهُ وَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي طِبْتَ حَيًّا وَمَيِّتًا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُذِيقُكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَوْتَتَيْنِ أَبَدًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: أَيُّهَا الْحَالِفُ عَلَى رِسْلِكَ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ جَلَسَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَن كَانَ يَعْبُدُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ اللهَ حَيُّ لَا يَمُوتُ، وَقَالَ: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} [الزمر: ٣٠] ، وَقَالَ: {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ، أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ، وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ} [آل عمران: ١٤٤] الْآيَةَ كُلَّهَا، فَنَشَجَ النَّاسُ يَبْكُونَ، وَاجْتَمَعَتِ الْأَنْصَارُ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ فَقَالُوا: مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَذَهَبَ إِلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَذَهَبَ عُمَرُ ⦗٢٤٦⦘ يَتَكَلَّمُ فَأَسْكَتَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: وَاللهِ مَا أَرَدْتُ بِذَاكَ إِلَّا أَنِّي قَدْ هَيَّأْتُ كَلَامًا قَدْ أَعْجَبَنِي خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْلُغَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَتَكَلَّمَ وَأَبْلَغَ فَقَالَ فِي كَلَامِهِ: نَحْنُ الْأُمَرَاءُ، وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ، قَالَ الْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ: لَا وَاللهِ لَا نَفْعَلُ أَبَدًا، مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا، وَلَكِنَّا الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ، هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ دَارًا وَأَعْرَبُهُمْ أَحْسَابًا، فَبَايِعُوا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَوْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ عُمَرُ: بَلْ نُبَايِعُكَ، أَنْتَ خَيْرُنَا وَسَيِّدُنَا وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذَ عُمَرُ بِيَدِهِ فَبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ النَّاسُ، فَقَالَ قَائِلٌ: قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: قَتَلَهُ اللهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (مقام) سنح میں تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ”واللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”اللہ کی قسم! میرے دل میں یہی بات آتی تھی، اور اللہ عزوجل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور اٹھائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیں گے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کے چہرے) سے کپڑا ہٹایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیا اور فرمایا: ”میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ زندگی میں بھی پاکیزہ رہے اور موت میں بھی، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ آپ کو کبھی دو موتوں کا ذائقہ نہیں چکھائے گا۔“ پھر باہر نکلے اور فرمایا: ”اے قسم کھانے والے! ٹھہر جا۔“ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بات شروع کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا، بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہے کبھی اسے موت نہیں آئے گی“ اور فرمایا: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ﴾ [سورة الزمر: 30] اور فرمایا: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ﴾ [سورة آل عمران: 144] لوگوں نے ہچکیاں لے کر رونا شروع کر دیا۔ پھر انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے لگے: ایک امیر ہمارا اور ایک تمہارا ہو گا، تو سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم ان کے پاس گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بات کرنے کا ارادہ کیا لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چپ کرا دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: ”اللہ کی قسم! میرا اس سے صرف یہ ارادہ تھا کہ میں نے ایک گفتگو تیار کر رکھی تھی جو مجھے پسند تھی، مجھے ڈر تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اس تک نہ پہنچ سکیں گے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بات کی اور بہت بلیغ بات کی، فرمایا: ”امیر ہم ہیں اور وزیر تم ہو۔“ سیدنا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: واللہ! ہم ایسا کبھی نہیں کریں گے، ایک امیر ہم میں سے اور ایک امیر تم میں سے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ امراء ہم ہیں اور وزراء تم؛ یہ (قریش) گھر کے لحاظ سے اوسط العرب اور حسب کے لحاظ سے سب سے اعلیٰ ہیں، اس لیے عمر بن خطاب یا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہما میں سے جس کی چاہو بیعت کر لو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بلکہ ہم آپ کی بیعت کریں گے، آپ ہم میں سب سے بہتر، ہمارے سردار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (ہم میں) سب سے زیادہ محبوب ہیں“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے ہاتھ کو پکڑا اور آپ کی بیعت کر لی اور باقی تمام لوگوں نے بھی بیعت کر لی۔ ایک شخص کہنے لگا: سعد بن عبادہ کو تم نے قتل کر دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اسے اللہ نے قتل کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16536]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16537
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ فِي خُطْبَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَإِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ مَا أَطَاعُوا اللهَ وَاسْتَقَامُوا عَلَى أَمْرِهِ، قَدْ بَلَغَكُمْ ذَلِكَ أَوْ سَمِعْتُمُوهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ، وَاصْبِرُوا إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِينَ} [الأنفال: ٤٦] ، فَنَحْنُ الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ، إِخْوَانُنَا فِي الدِّينِ وَأَنْصَارُنَا عَلَيْهِ. وَفِي خُطْبَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَهُ: نَشَدْتُكُمْ بِاللهِ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مَنْ سَمِعَهُ مِنْكُمْ، وَهُوَ يَقُولُ:" الْوُلَاةُ مِنْ قُرَيْشٍ مَا أَطَاعُوا اللهَ وَاسْتَقَامُوا عَلَى أَمْرِهِ"؟ فَقَالَ مَنْ قَالَ مِنَ الْأَنْصَارِ: بَلَى، الْآنَ ذَكَرْنَا، قَالَ: فَإِنَّا لَا نَطْلُبُ هَذَا الْأَمْرَ إِلَّا لِهَذَا، فَلَا تَسْتَهْوِيَنَّكُمُ الْأَهْوَاءُ، فَلَيْسَ بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ، فَأَنَّي تُصْرَفُونَ.
محمد بن اسحاق بن یسار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خطبہ نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا تھا: یہ امر (امارت) قریش میں رہے گا جب تک وہ اللہ کی اطاعت کریں اور اس کے حکم پر قائم رہیں، اور تمہیں یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچی ہے یا تم نے سنی ہے، ﴿وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ [سورة الأنفال: 46] ”آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، اور صبر کرو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔ ہم امراء ہیں تم وزراء، تم ہمارے دینی بھائی ہو اور دین پر ہمارے مددگار ہو۔ پھر ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں فرمایا: اے انصاریو! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم نے، یا تم میں سے جس نے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ ”حکمران قریش سے ہوں گے، جب تک وہ اللہ کی اطاعت کریں اور اس کے حکم پر قائم رہیں“؟ تو انصار میں سے کچھ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، اب ہمیں یاد آ گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اس امارت کو اسی (فرمان) کی وجہ سے طلب کرتے ہیں، لہٰذا خواہشات تمہیں بہکا نہ دیں، کیونکہ حق کے بعد گمراہی کے سوا کچھ نہیں، تو تم کہاں پھیرے جا رہے ہو؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16537]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16538
حَدَّثَنَا أبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا وُهَيْبٌ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ: يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْكُمْ قَرَنَ مَعَهُ رَجُلًا مِنَّا، فَنَرَى أَنْ يَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ رَجُلَانِ، أَحَدُهُمَا مِنْكُمْ وَالْآخَرُ مِنَّا، قَالَ: فَتَتَابَعَتْ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ عَلَى ذَلِكَ، فَقَامَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَإِنَّ الْإِمَامَ يَكُونُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَنَحْنُ أَنْصَارُهُ كَمَا كُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، وَثَبَّتَ قَائِلَكُمْ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا لَوْ فَعَلْتُمْ غَيْرَ ذَلِكَ لَمَا صَالَحْنَاكُمْ، ثُمَّ أَخَذَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ بِيَدِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: هَذَا ⦗٢٤٧⦘ صَاحِبُكُمْ فَبَايَعُوهُ، ثُمَّ انْطَلَقُوا، فَلَمَّا قَعَدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَلَمْ يَرَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَامَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَتَوْا بِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَتَنَهُ، أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ: لَا تَثْرِيبَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ فبايعه، ثُمَّ لَمْ يَرَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلَ عَنْهُ، حَتَّى جَاءُوا بِهِ، فَقَالَ: ابْنَ عَمَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَوَارِيَّهُ، أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ: لَا تَثْرِيبَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهُ فَبَايَعَاهُ..
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو انصار کے خطباء کھڑے ہوئے۔ ان میں سے ایک کہنے لگا: اے مہاجرین کی جماعت! جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تم میں سے کسی کو عامل بنایا تو اس کے ساتھ ایک آدمی ہم میں سے بھی مقرر فرمایا، لہٰذا ہمارا خیال ہے کہ اس امارت کو دو آدمی سنبھالیں، ایک ہم میں سے ایک تم میں سے۔ سارے خطباء نے اس کی تائید کی تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود مہاجرین میں سے تھے اور امام بھی مہاجرین سے ہوگا اور ہم اس کے بھی اسی طرح مددگار ہوں گے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے انصاریو! تمہیں اللہ بہترین بدلہ دے اور تمہارے کہنے والے کو ثابت قدم رکھے، پھر فرمایا: سنو! اگر تم اس کے علاوہ کچھ کرتے تو ہم تم سے صلح نہ کرتے۔ پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: یہ تمہارے امیر ہیں، ان کی بیعت کرلو، پھر لوگ چلے گئے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر بیٹھے تو لوگوں کے چہروں کو دیکھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نظر نہ آئے۔ ان کے بارے میں پوچھا تو انصار کے کچھ لوگ اٹھے اور انہیں لے آئے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد! کیا تم نے مسلمانوں کی جماعت میں پھوٹ ڈالنے کا ارادہ کیا تھا؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے خلیفۂ رسول! کوئی ملامت نہیں، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی بیعت کرلی۔ پھر سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نظر نہ آئے۔ ان کے بارے میں پوچھا یہاں تک کہ لوگ انہیں لے آئے تو فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کے بیٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری! کیا تم نے مسلمانوں کی جماعت میں پھوٹ ڈالنے کا ارادہ کیا تھا؟ انہوں نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ والی بات کہی: اے خلیفۂ رسول! کوئی ملامت نہیں، اور دونوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16538]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16539
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَافِظُ الْإِسْفِرَائِينِيُّ، ثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَا: ثَنَا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، ثَنَا وُهَيْبٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، يَقُولُ: جَاءَنِي مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فَسَأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَكَتَبْتُهُ لَهُ فِي رُقْعَةٍ وَقَرَأْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ يَسْوِي بَدَنَةً، فَقُلْتُ: يَسْوِي بَدَنَةً؟ بَلْ هُوَ يَسْوِي بَدْرَةً.
سابقہ روایت، «تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ۔
محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے پاس مسلم بن حجاج آئے اور مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، میں نے اسے ان کے لیے ایک پرچے پر لکھا اور انہیں پڑھ کر سنایا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث ایک قربانی کے اونٹ (بدنہ) کے برابر ہے۔ میں نے کہا: بدنہ کے برابر؟ بلکہ یہ تو ایک بدرہ (درہموں سے بھری تھیلی) کے برابر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16539]
محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے پاس مسلم بن حجاج آئے اور مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، میں نے اسے ان کے لیے ایک پرچے پر لکھا اور انہیں پڑھ کر سنایا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث ایک قربانی کے اونٹ (بدنہ) کے برابر ہے۔ میں نے کہا: بدنہ کے برابر؟ بلکہ یہ تو ایک بدرہ (درہموں سے بھری تھیلی) کے برابر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16539]
حدیث نمبر: 16540
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثَنَا الْفَيْضُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ائمہ قریش سے ہی ہوں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16540]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره