🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3364. -- باب: الاستخلاف
-- باب: استخلاف (اپنے بعد جانشین مقرر کرنے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16570
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِحْمَشٍ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قِيلَ لِعُمَرَ ⦗٢٥٦⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَلَا تَسْتَخْلِفُ؟ قَالَ: إِنْ أَتْرُكْ فَقَدْ تَرَكَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ: رَاغِبٌ وَرَاهِبٌ لَا أَتَحَمَّلُهَا حَيًّا وَمَيِّتًا، لَوَدِدْتُ أَنِّي نَجَوْتُ مِنْهَا كَفَافًا، لَا لِي وَلَا عَلَيَّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيّ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ کیا آپ (کسی کو) خلیفہ نامزد نہیں کریں گے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اگر میں (یہ معاملہ) چھوڑ دوں تو مجھ سے پہلے مجھ سے بہتر نے بھی چھوڑا تھا، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، اور اگر میں نامزد کروں تو مجھ سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نامزد کیا تھا جو مجھ سے بہتر تھے۔“ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: انہوں نے ان پر ثنا بیان کی اور فرمایا: ”رغبت اور خوف کے ساتھ، میں اس بات کا نہ زندگی میں اور نہ موت کے بعد متحمل ہوں۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ مجھے اس سے (برابری کی بنیاد پر) نجات مل جائے، نہ میرے لیے (ثواب) ہو اور نہ مجھ پر (بوجھ) ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16570]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16571
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَضَرْتُ أَبِي حِينَ أُصِيبَ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ فَقَالُوا: جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا، فَقَالَ: رَاهِبٌ وَرَاغِبٌ، قَالُوا: اسْتَخْلِفْ، فَقَالَ: أَتَحَمَّلُ أَمَرَكُمْ حَيًّا وَمَيِّتًا، لَوَدِدْتُ أَنَّ حَظِّي مِنْهَا الْكَفَافُ، لَا عَلَيَّ وَلَا لِي، إِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، وَإِنْ أَتْرُكْكُمْ فَقَدْ تَرَكَكُمْ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حِينَ ذَكَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مُسْتَخْلِفٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب میرے والد (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) زخمی کیے گئے تو میں ان کے پاس موجود تھا۔ لوگوں نے ان کی تعریف کی اور کہا: ”اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔“ انہوں نے فرمایا: ”(لوگ) امید رکھنے والے بھی ہیں اور ڈرنے والے بھی۔“ لوگوں نے کہا: ”(کسی کو) خلیفہ نامزد کر دیجیے۔“ انہوں نے فرمایا: ”کیا میں زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی تمہارا بوجھ اٹھاؤں؟ میری خواہش ہے کہ اس میں میرا حصہ بس برابر سرابر ہو، نہ مجھ پر (بوجھ) ہو اور نہ میرے لیے (ثواب)۔ اگر میں خلیفہ نامزد کروں تو مجھ سے بہتر (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے بھی نامزد کیا تھا، اور اگر میں تمہیں (یوں ہی) چھوڑ دوں تو مجھ سے بہتر یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تمہیں چھوڑا تھا۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو میں سمجھ گیا کہ وہ (کسی کو) خلیفہ نامزد نہیں کریں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16571]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16572
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: أَعِلْمُكَ أَنَّ أَبَاكَ غَيْرَ مُسْتَخْلِفٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: كَلَّا، قَالَتْ: إِنَّهُ فَاعِلٌ، فَحَلَفْتُ أَنْ أُكَلِّمَهُ فِي ذَلِكَ، فَخَرَجْتُ فِي سَفَرٍ، أَوْ قَالَ: فِي غَزَاةٍ، فَلَمْ أُكَلِّمْهُ، فَكُنْتُ فِي سَفَرِي كَأَنَّمَا أَحْمِلُ بِيَمِينِي جَبَلًا حَتَّى قَدِمْتُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ يَسْأَلُنِي، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ مَقَالَةً فَآلَيْتُ أَنْ أَقُولَهَا لَكَ، زَعَمُوا أَنَّكَ غَيْرَ مُسْتَخْلِفٍ، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَوْ كَانَ لَكَ رَاعِي غَنْمٍ فَجَاءَكَ وَقَدْ تَرَكَ رِعَايَتَهُ رَأَيْتَ أَنْ قَدْ ضَيَّعَ، فَرِعَايَةُ النَّاسِ أَشَدُّ، قَالَ: فَوَافَقَهُ قَوْلِي، فَأَطْرَقَ مَلِيًّا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ يَحْفَظُ دِينَهُ، وَإِنْ لَا أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَخْلِفْ، وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَدِ اسْتَخْلَفَ، قَالَ: فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ ذَكَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَا يَعْدِلُ بِرَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا، وَأَنَّهُ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، انہوں نے کہا: ”کیا تمہیں پتا ہے کہ تمہارے والد (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کرنا چاہتے؟“ میں نے کہا: ”ہرگز نہیں،“ انہوں نے کہا: ”ایسا ہی ہونے والا ہے۔“ میں نے قسم اٹھائی کہ میں اس بارے میں ان سے ضرور بات کروں گا۔ پھر میں کسی سفر یا غزوہ میں چلا گیا اور بات نہ کر سکا۔ جب واپس لوٹا تو اپنے والد محترم سے ملا اور وہ مجھ سے سوالات کرنے لگے۔ میں نے عرض کیا: ”میں نے لوگوں سے کچھ سنا ہے، میں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آپ سے ضرور کہوں گا، ان کا خیال ہے کہ آپ (کسی کو) خلیفہ نامزد نہیں کریں گے، حالانکہ میں جانتا ہوں کہ اگر آپ کی بکریوں کا کوئی چرواہا ہوتا اور وہ آپ کے پاس آ جاتا اور اپنی رعیت کو چھوڑ دیتا تو آپ سمجھتے کہ اس نے انہیں ضائع کر دیا ہے، جبکہ لوگوں کی نگرانی تو اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔“ وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے میری بات کی موافقت کی، تھوڑی دیر ٹھہرے، پھر سر اٹھایا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی خود حفاظت کرنی ہے، اگر میں نے (کسی کو) خلیفہ نامزد نہیں کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تو نہیں کیا تھا، اور اگر میں (کسی کو) خلیفہ نامزد کرتا ہوں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی کیا تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہی ذکر کرتے رہے، تو میں سمجھ گیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کسی کو نہیں رکھیں گے (یعنی ان کے طریقے پر کسی کو ترجیح نہیں دیں گے) اور یہ کہ وہ (کسی کو) خلیفہ نامزد نہیں کریں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16572]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16573
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو ⦗٢٥٧⦘ جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرُّزَازُ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثَنَا شُعَيْبُ بْنُ مَيْمُونٍ، ثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: قِيل لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اسْتَخْلِفْ عَلَيْنَا، فَقَالَ: مَا اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْتَخْلِفُ، وَلَكِنْ إِنْ يُرِدِ اللهُ بِالنَّاسِ خَيْرًا جَمَعَهُمْ عَلَى خَيْرِهِمْ، كَمَا جَمَعَهُمْ بَعْدَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْرِهِمْ.
شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کہا گیا کہ ہمارے لیے خلیفہ مقرر فرما دیں تو فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خلیفہ مقرر نہیں فرمایا، میں کیسے مقرر کر دوں؟ لیکن اگر اللہ اپنے بندوں سے بھلائی کا ارادہ کرے تو انہیں خیر پر جمع فرما دیتا ہے، جیسے اس نے اپنے نبی کے بعد جمع فرما دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16573]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16574
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخِرِ الْجُزْءِ الْعَاشِرِ مِنَ الْفَوَائِدِِ الْكَبِيرِ لِأَبِي الْعَبَّاسِ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خُلِيٍّ الْحِمْصِيُّ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ، فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَبَا حَسَنٍ كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللهِ بَارِئًا، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِهِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَنْتَ وَاللهِ بَعْدَ ثَلَاثٍ عَبْدُ الْعَصَا، وَإِنِّي وَاللهِ لَأَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْفَ يَتَوَفَّاهُ اللهُ مِنْ وَجَعِهِ هَذَا، إِنِّي أَعْرِفُ وُجُوهَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَاذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْنَسْأَلْهُ فِي مَنْ هَذَا الْأَمْرُ، فَإِنْ كَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا كَلَّمْنَاهُ فَأَوْصَى بِنَا، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّا وَاللهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَنَاهَا، لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَإِنِّي وَاللهِ لَا أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شُعَيْبٍ، وَفِي هَذَا وَفِيمَا قَبْلَهُ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَخْلِفْ أَحَدًا بِالنَّصِّ عَلَيْهِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں تھے، لوگوں نے پوچھا: اے ابوالحسن! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ہیں؟ فرمایا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”بہتر ہیں۔“ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: آپ اللہ کی قسم! تین کے بعد لاٹھی والے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ اسی تکلیف میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوجائیں گے اور موت کے وقت میں بنو عبدالمطلب کے چہروں کو جانتا ہوں؛ لہٰذا چلو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امارت کے بارے میں پوچھ لیں، اگر ہم میں ہوگی تو پتہ چل جائے گا، اگر غیروں میں ہوگی تو ہم بات کریں گے کہ ہمارے بارے میں وصیت فرما دیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی سوال نہیں کروں گا؛ کیونکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا تو لوگ پھر کبھی ہمیں یہ نہیں دیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16574]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16575
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرُّزَازُ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: لَمَّا ثَقُلَ أَبِي دَخَلَ عَلَيْهِ فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَقَالُوا: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ مَاذَا تَقُولُ لِرَبِّكِ غَدًا إِذَا قَدِمْتَ عَلَيْهِ وَقَدِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ قَالَتْ: فَأَجْلَسْنَاهُ، فَقَالَ: أَبِاللهِ تُرْهِبُونِي؟ أَقُولُ اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمْ خَيْرَهُمْ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب ابوبکر رضی اللہ عنہ بوجھل ہو گئے تو فلاں فلاں آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے خلیفۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کل جب آپ اپنے رب کے پاس جائیں گے تو اسے کیا جواب دیں گے، جبکہ آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو ہم پر خلیفہ نامزد کر دیا ہے؟ فرماتی ہیں: ہم نے آپ کو بٹھایا تو آپ نے فرمایا: کیا تم مجھے اللہ سے ڈراتے ہو؟ میں (اپنے رب سے) کہوں گا کہ میں نے ان پر ان میں سے سب سے بہتر شخص کو خلیفہ نامزد کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16575]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16576
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا الْأَمِيرُ أَبُو أَحْمَدَ خَلَفُ بْنُ أَحْمَدَ، أَنْبَأَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْفَاكِهِيُّ، بِمَكَّةَ، ثَنَا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: بَلَغَنِي أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْصَى فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اكْتُبْ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ عِنْدَ ⦗٢٥٨⦘ آخِرِ عَهْدِهِ بِالدُّنْيَا خَارِجًا مِنْهَا، وَأَوَّلِ عَهْدِهِ بِالْآخِرَةِ دَاخِلًا فِيهَا، حِينَ يَصْدُقُ الْكَاذِبُ، وَيُؤَدِّي الْخَائِنُ، وَيُؤْمِنُ الْكَافِرُ، إِنِّي أَسْتَخْلِفُ بَعْدِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَإِنْ عَدَلَ فَذَلِكَ ظَنِّي بِهِ وَرَجَائِي فِيهِ، وَإِنْ بَدَّلَ وَجَارَ فَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا اكْتَسَبَ، {وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ} [الشعراء: ٢٢٧] ..
یوسف بن محمد کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی بیماری میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو وصیت لکھوائی تھی: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے،“ یہ وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی طرف سے ان کے دنیا سے رخصت ہوتے وقت کی ہے کہ جب جھوٹا بھی سچ بولتا ہے، خائن بھی امانت ادا کرتا ہے اور کافر بھی ایمان لانے کی سوچتا ہے۔ میں اپنے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کرتا ہوں۔ اگر وہ انصاف کریں تو یہ میرا ان کے بارے میں گمان ہے اور میری امید ہے اور اگر وہ ظلم و زیادتی کریں تو میں غیب نہیں جانتا اور ہر بندے کے لیے وہی ہے جو اس نے کمایا ﴿وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ﴾ [سورة الشعراء: 227] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16576]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16577
وَقَدْ أَنْبَأَنِيهِ الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، إِجَازَةً، أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ الْفَاكِهِيَّ، أَخْبَرَهُمْ، فَذَكَرَهُ، فِي إِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبِّرِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، مَوْصُولًا.
سابقہ روایت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16577]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں