السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3364. -- باب: الاستخلاف
-- باب: استخلاف (اپنے بعد جانشین مقرر کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 16575
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرُّزَازُ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: لَمَّا ثَقُلَ أَبِي دَخَلَ عَلَيْهِ فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَقَالُوا: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ مَاذَا تَقُولُ لِرَبِّكِ غَدًا إِذَا قَدِمْتَ عَلَيْهِ وَقَدِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ قَالَتْ: فَأَجْلَسْنَاهُ، فَقَالَ: أَبِاللهِ تُرْهِبُونِي؟ أَقُولُ اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمْ خَيْرَهُمْ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب ابوبکر رضی اللہ عنہ بوجھل ہو گئے تو فلاں فلاں آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے خلیفۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کل جب آپ اپنے رب کے پاس جائیں گے تو اسے کیا جواب دیں گے، جبکہ آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو ہم پر خلیفہ نامزد کر دیا ہے؟ فرماتی ہیں: ہم نے آپ کو بٹھایا تو آپ نے فرمایا: کیا تم مجھے اللہ سے ڈراتے ہو؟ میں (اپنے رب سے) کہوں گا کہ میں نے ان پر ان میں سے سب سے بہتر شخص کو خلیفہ نامزد کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16575]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16575 in Urdu