السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3391. -- باب: القوم يظهرون رأي الخوارج لم يحل به قتالهم
-- باب: محض خوارج کی رائے ظاہر کرنے کی وجہ سے اس قوم سے قتال حلال نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q16763
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: بَلَغَنَا أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ سَمِعَ تَحْكِيمًا مِنْ نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ، لَكُمْ عَلَيْنَا ثَلَاثٌ: لَا نَمْنَعُكُمْ مَسَاجِدَ اللهِ أَنْ تَذْكُرُوا فِيهَا ⦗319⦘ اسْمَ اللهِ، وَلَا نَمْنَعُكُمُ الْفَيْءَ مَا كَانَتْ أَيْدِيكُمْ مَعَ أَيْدِينَا، وَلَا نَبْدَؤُكُمْ بِقِتَالٍ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران انہوں نے مسجد کے ایک کونے سے تحکیم (کا نعرہ) سنا: ”اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں۔““
تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں، (یہ) کلمہ حق ہے جس سے باطل مراد لیا گیا ہے، تمہارے ہم پر تین حقوق ہیں: ہم تمہیں اللہ کی مسجدوں سے نہیں روکیں گے کہ تم ان میں اللہ کا نام لو، اور جب تک تمہارے ہاتھ ہمارے ہاتھوں کے ساتھ ہیں ہم تمہیں مالِ فے سے محروم نہیں کریں گے، اور ہم تم سے لڑائی کی ابتدا نہیں کریں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: Q16763]
تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں، (یہ) کلمہ حق ہے جس سے باطل مراد لیا گیا ہے، تمہارے ہم پر تین حقوق ہیں: ہم تمہیں اللہ کی مسجدوں سے نہیں روکیں گے کہ تم ان میں اللہ کا نام لو، اور جب تک تمہارے ہاتھ ہمارے ہاتھوں کے ساتھ ہیں ہم تمہیں مالِ فے سے محروم نہیں کریں گے، اور ہم تم سے لڑائی کی ابتدا نہیں کریں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: Q16763]
حدیث نمبر: 16763
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، أَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ نَمِرٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا فِي الْجُمُعَةِ، وَعَلِيُّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، إِذْ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، ثُمَّ قَامُوا مِنْ نَوَاحِي الْمَسْجِدِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِيَدِهِ اجْلِسُوا: نَعَمْ، لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، كَلِمَةٌ يُبْتَغَى بِهَا بَاطِلٌ، حُكْمُ اللهِ نَنْظُرُ فِيكُمْ، أَلَا إِنَّ لَكُمْ عِنْدِي ثَلَاثَ خِصَالٍ: مَا كُنْتُمْ مَعَنَا لَا نَمْنَعُكُمْ مَسَاجِدَ اللهِ أَنْ تَذْكُرُوا فِيهَا اسْمَ اللهِ، وَلَا نَمْنَعُكُمْ فَيْئًا مَا كَانَتْ أَيْدِيكُمْ مَعَ أَيْدِينَا، وَلَا نُقَاتِلُكُمْ حَتَّى تُقَاتِلُوا، ثُمَّ أَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ وَرُوِي بَعْضُ مَعْنَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
کثیر بن نمیر کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: «لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ» ”اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں“، پھر دوسرا کھڑا ہوا اور بہت سے لوگ مسجد کے کونوں سے کھڑے ہو گئے، سب یہی کہہ رہے تھے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، «لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ» ”اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں“ کلمہ حق ہے اور مراد باطل لی گئی ہے۔
آگے اوپر والی امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16763]
آگے اوپر والی امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16763]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16764
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثَنَا عَفَّانُ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعَ عَلِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَوْمًا يَقُولُونَ: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، وَلَكِنْ لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ أَمِيرٍ، بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ، يَعْمَلُ فِيهِ الْمُؤْمِنُ، وَيَسْتَمْتِعُ فِيهِ الْكَافِرُ، وَيُبَلِّغُ اللهُ فِيهَا الْأَجَلَ.
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک قوم کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: «لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ» ”حکم صرف اللہ ہی کا ہے“، فرمایا: ہاں ایسے ہی ہے، لیکن لوگوں کے لیے نیک یا بد ایک امیر ضروری ہے، جس میں مومن عمل کریں اور کافر فائدہ اٹھائیں اور اسی میں اللہ اپنا فیصلہ بھیجے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16764]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16765
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: مَا تَقُولُ فِيمَنْ يَسُبُّ الْخُلَفَاءَ، أَتَرَى أَنْ يُقْتَلَ؟ قَالَ: فَسَكَتُّ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ: مَا لَكَ لَا تَكَلَّمُ؟ فَسَكَتُّ، فَعَادَ لِمِثْلِهَا، فَقُلْتُ: أَقَتَلَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ سَبَّ الْخُلَفَاءَ، قَالَ: فَقُلْتُ: فَإِنِّي أَرَى أَنْ يُنْكَلَ فِيمَا انْتَهَكَ مِنْ حُرْمَةِ الْخُلَفَاءِ.
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ولید بن عبدالملک نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ جو خلفاء کو گالیاں دے کیا اسے قتل کیا جائے گا؟ میں خاموش رہا، پھر پوچھا، میں پھر خاموش رہا، پھر پوچھا کہ بات کیوں نہیں کرتے ہو؟ تو میں نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! کیا اس نے (کسی کو) قتل کیا ہے؟ کہا: نہیں، گالی دی ہے۔ میں نے کہا: پھر اسے عبرت ناک سزا دی جائے جو اس نے خلفاء کی عزت پامال کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16765]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 16766
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍِ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَهْرِيُّ، عَنْ عُمَرَ، مَوْلَى غُفْرَةَ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، كَانَ عَلَى الْكُوفَةِ فِي عَهْدِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ: إِنِّي وَجَدْتُ رَجُلًا بِالْكُنَاسَةِ، سُوقٌ مِنْ أَسْوَاقِ الْكُوفَةِ، يَسُبُّكَ، وَقَدْ قَامَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ، فَهَمَمْتُ بِقَتْلِهِ، أَوْ بِقَطْعِ يَدِهِ أَوْ لِسَانِهِ أَوْ جَلْدِهِ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُرَاجِعَكَ فِيهِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ ⦗٣٢٠⦘ عَبْدِ الْعَزِيزِ: سَلَّامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ قَتَلْتَهُ لَقَتَلْتُكَ بِهِ، وَلَوْ قَطَعْتَهُ لَقَطَعْتُكَ بِهِ، وَلَوْ جَلَدْتَهُ لَأَقَدْتُهُ مِنْكَ، فَإِذَا جَاءَ كِتَابِي هَذَا فَاخْرُجْ بِهِ إِلَى الْكُنَاسَةِ، فَسُبَّ الَّذِي سَبَّنِي، أَوِ اعْفُ عَنْهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ، فَإِنَّه لَا يَحِلُّ قَتْلُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِسَبِّ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، إِلَّا رَجُلٌ سَبَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ سَبَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ حَلَّ دَمُهُ.
عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب رحمہ اللہ عہدِ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ میں کوفہ پر مقرر تھے، تو انہوں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو لکھا کہ کوفہ کے ایک کناسہ نامی بازار میں ایک شخص آپ کو گالیاں دے رہا تھا اور اس پر جرم ثابت بھی ہو گیا، تو میں نے سمجھا کہ یا تو اسے قتل کر دوں یا زبان کاٹ دوں یا کوڑے ماروں، لیکن پھر سوچا کہ آپ سے رجوع کر لوں۔ آپ نے جواب میں لکھا: ”اگر تو اسے قتل کرتا یا زبان کاٹتا یا کوڑے مارتا تو میں تجھے بھی یہی سزا دیتا، لہٰذا کناسہ کی طرف جاؤ اور جا کر اسے بھی گالی دے دو یا معاف کر دو اور یہی مجھے محبوب ہے، اور مسلمانوں میں سے کسی کو گالی دینے کی وجہ سے کسی کا خون حلال نہیں ہو جاتا، مگر جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے اس کا خون حلال ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16766]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف