🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3391. -- باب: القوم يظهرون رأي الخوارج لم يحل به قتالهم
-- باب: محض خوارج کی رائے ظاہر کرنے کی وجہ سے اس قوم سے قتال حلال نہ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16766
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍِ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَهْرِيُّ، عَنْ عُمَرَ، مَوْلَى غُفْرَةَ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، كَانَ عَلَى الْكُوفَةِ فِي عَهْدِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ: إِنِّي وَجَدْتُ رَجُلًا بِالْكُنَاسَةِ، سُوقٌ مِنْ أَسْوَاقِ الْكُوفَةِ، يَسُبُّكَ، وَقَدْ قَامَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ، فَهَمَمْتُ بِقَتْلِهِ، أَوْ بِقَطْعِ يَدِهِ أَوْ لِسَانِهِ أَوْ جَلْدِهِ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُرَاجِعَكَ فِيهِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ ⦗٣٢٠⦘ عَبْدِ الْعَزِيزِ: سَلَّامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ قَتَلْتَهُ لَقَتَلْتُكَ بِهِ، وَلَوْ قَطَعْتَهُ لَقَطَعْتُكَ بِهِ، وَلَوْ جَلَدْتَهُ لَأَقَدْتُهُ مِنْكَ، فَإِذَا جَاءَ كِتَابِي هَذَا فَاخْرُجْ بِهِ إِلَى الْكُنَاسَةِ، فَسُبَّ الَّذِي سَبَّنِي، أَوِ اعْفُ عَنْهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ، فَإِنَّه لَا يَحِلُّ قَتْلُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِسَبِّ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، إِلَّا رَجُلٌ سَبَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ سَبَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ حَلَّ دَمُهُ.
عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب رحمہ اللہ عہدِ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ میں کوفہ پر مقرر تھے، تو انہوں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو لکھا کہ کوفہ کے ایک کناسہ نامی بازار میں ایک شخص آپ کو گالیاں دے رہا تھا اور اس پر جرم ثابت بھی ہو گیا، تو میں نے سمجھا کہ یا تو اسے قتل کر دوں یا زبان کاٹ دوں یا کوڑے ماروں، لیکن پھر سوچا کہ آپ سے رجوع کر لوں۔ آپ نے جواب میں لکھا: ”اگر تو اسے قتل کرتا یا زبان کاٹتا یا کوڑے مارتا تو میں تجھے بھی یہی سزا دیتا، لہٰذا کناسہ کی طرف جاؤ اور جا کر اسے بھی گالی دے دو یا معاف کر دو اور یہی مجھے محبوب ہے، اور مسلمانوں میں سے کسی کو گالی دینے کی وجہ سے کسی کا خون حلال نہیں ہو جاتا، مگر جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے اس کا خون حلال ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16766]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16766 in Urdu