السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3403. -- باب: ما يحرم به الدم من الإسلام زنديقا كان أو غيره
-- باب: اس اسلام کا بیان جس سے جان (خون) محفوظ ہو جاتی ہے خواہ وہ زندیق ہو یا کوئی اور۔
حدیث نمبر: 16843
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ دُعِيَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبْتُ إِلَيْهِ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُصَلِّي عَلَى ابْنِ أُبَيٍّ وَقَدْ قَالَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَكَذَا وَكَذَا؟ ⦗٣٤٧⦘ أُعَدِّدُ عَلَيْهِ قَوْلَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ" فَلَمَّا أَكْثَرْتُ عَلَيْهِ قَالَ:" إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ، لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي إِنْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ عَلَيْهَا" فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمْ يَمْكُثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَتَانِ فِي بَرَاءَةَ: {وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ} [التوبة: ٨٤] ، قَالَ: فَعَجِبْتُ بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، وَاللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَهَذَا يُبَيِّنُ مَا قُلْنَا، فَأَمَّا أَمْرُهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ صَلَاتَهُ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مُخَالِفَةٌ صَلَاةَ غَيْرِهِ، وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَضَى إِذْ أَمَرَهُ بِتَرْكِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا غُفِرَ لَهُ، وَقَضَى أَنْ لَا يَغْفِرَ لِمُقِيمٍ عَلَى شِرْكٍ، فَنَهَاهُ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَى مَنْ لَا يُغْفَرُ لَهُ، وَلَمْ يَمْنَعْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَيْهِمْ مُسْلِمًا، وَلَمْ يَقْتُلْ مِنْهُمْ بَعْدَ هَذَا أَحَدًا، وَتَرْكُ الصَّلَاةِ مُبَاحٌ عَلَى مَنْ قَامَتْ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ طَائِفَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَقَدْ عَاشَرَهُمْ حُذَيْفَةُ يَعْرِفُهُمْ بِأَعْيَانِهِمْ، ثُمَّ عَاشَرَهُمْ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُمْ يُصَلَّى عَلَيْهِمْ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا وُضِعَتْ جِنَازَةٌ فَرَأَى حُذَيْفَةَ، فَإِنْ أَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اجْلِسْ جَلَسَ، وَإِنْ قَامَ مَعَهُ صَلَّى عَلَيْهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَلَمْ يَمْنَعْ هُوَ وَلَا أَبُو بَكْرٍ قَبْلَهُ وَلَا عُثْمَانُ بَعْدَهُ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ، وَلَا شَيْئًا مِنْ أَحْكَامِ الْإِسْلَامِ، وَقَدْ أَعَلَمَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تُوُفِّيَ اشْرَأَبَّ النِّفَاقُ بِالْمَدِينَةِ.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سابقہ روایت
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے قول کو واضح کرتی ہے کہ ان پر نماز نہ پڑھی جائے اور مجھے امید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے ان پر نماز سے روکا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس پر بھی نماز پڑھیں اسے معاف کر دیا جاتا ہے اور جو شرک پر قائم ہو اس کی بخشش بھی نہیں ہے۔ لہٰذا اس پر نماز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک دیا گیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو نہیں روکا۔ مسلمان ان پر نمازیں پڑھتے تھے۔ حضرت حذیفہ، عمر اور ابوبکر رضی اللہ عنہم تمام پڑھتے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تو جو بھی جنازہ رکھا جاتا وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے۔ اگر وہ انکار کر دیتے تو نہ پڑھاتے، اگر ساتھ کھڑے ہو جاتے تو پڑھا دیتے۔ نہ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روکا اور نہ عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو ان پر نماز سے روکا اور نہ ہی ایسی کوئی چیز اسلام کے احکام سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16843]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے قول کو واضح کرتی ہے کہ ان پر نماز نہ پڑھی جائے اور مجھے امید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے ان پر نماز سے روکا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس پر بھی نماز پڑھیں اسے معاف کر دیا جاتا ہے اور جو شرک پر قائم ہو اس کی بخشش بھی نہیں ہے۔ لہٰذا اس پر نماز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک دیا گیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو نہیں روکا۔ مسلمان ان پر نمازیں پڑھتے تھے۔ حضرت حذیفہ، عمر اور ابوبکر رضی اللہ عنہم تمام پڑھتے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تو جو بھی جنازہ رکھا جاتا وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے۔ اگر وہ انکار کر دیتے تو نہ پڑھاتے، اگر ساتھ کھڑے ہو جاتے تو پڑھا دیتے۔ نہ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روکا اور نہ عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو ان پر نماز سے روکا اور نہ ہی ایسی کوئی چیز اسلام کے احکام سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16843]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16844
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي قِصَّةِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِرٌ إِلَى تَبُوكَ نَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ لَيُوحَى إِلَيْهِ، وَأَنَاخَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَضَتِ النَّاقَةُ تَجُرُّ زِمَامَهَا مُنْطَلِقَةً، فَتَلَقَّاهَا حُذَيْفَةُ فَأَخَذَ بِزِمَامِهَا يَقُودُهَا حَتَّى أَنَاخَهَا وَقَعَدَ عِنْدَهَا، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَأَقْبَلَ إِلَى نَاقَتِهِ فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" فَقَالَ: حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنِّي مُسِرٌّ إِلَيْكَ سِرًّا لَا تُحَدِّثَنَّ بِهِ أَحَدًا أَبَدًا، إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ"، رَهْطٍ ذَوِي عَدَدٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَانَ إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ يَظُنُّ عُمَرُ أَنَّهُ مِنْ أُولَئِكِ الرَّهْطِ أَخَذَ بِيَدِ حُذَيْفَةَ فَقَادَهُ، فَإِنْ مَشَى مَعَهُ صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِنِ انْتَزَعَ مِنْ يَدِهِ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ، وَأَمَرَ مَنْ يُصَلِّي عَلَيْهِ ⦗٣٤٨⦘ هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک کی طرف گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اتر گئے تاکہ آپ کی طرف وحی کی جائے تو اونٹنی نے اٹھ کر بھاگنا چاہا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کی لگام کو پکڑ لیا اور اس کے پاس بیٹھ گئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو اونٹنی کی طرف آئے اور پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: حذیفہ بن یمان، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں ایک راز بتاتا ہوں، کسی کو نہ بتانا کہ مجھے فلاں فلاں پر (نمازِ جنازہ) پڑھنے سے منع کر دیا گیا ہے،“ پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ رکھتے، جس (کے جنازے) کے متعلق سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ انکار کر دیتے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جنازہ نہیں پڑھتے تھے۔
یہ روایت مرسل ہے، اور ایک دوسری سند سے موصولاً بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16844]
یہ روایت مرسل ہے، اور ایک دوسری سند سے موصولاً بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16844]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16845
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ غَزَا تَبُوكَ نَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ وَرَاحِلَتُهُ بَارِكَةٌ، فَقَامَتْ تَجُرُّ زِمَامَهَا حَتَّى لَقِيَهَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، فَأَخَذَ بِزِمَامِهَا فَاقْتَادَهَا حَتَّى رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَأَنَاخَهَا ثُمَّ جَلَسَ عِنْدَهَا حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" فَقَالَ: حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنِّي أُسِرُّ إِلَيْكَ أَمْرًا فَلَا تَذْكُرَنَّهُ، إِنِّي قَدْ نُهِيتُ أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ" رَهْطٍ ذَوِي عَدَدٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، لَمْ يُعْلِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذِكْرَهُمْ لِأَحَدٍ غَيْرِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ إِذَا مَاتَ رَجُلٌ يَظُنُّ أَنَّهُ مِنْ أُولَئِكِ الرِّهْطِ أَخَذَ بِيَدِ حُذَيْفَةَ فَاقْتَادَهُ إِلَى الصَّلَاةِ عَلَيْهِ، فَإِنْ مَشَى مَعَهُ حُذَيْفَةُ صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِنِ انْتَزَعَ حُذَيْفَةُ يَدَهُ فَأَبَى أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ انْصَرَفَ عُمَرُ مَعَهُ فَأَبَى أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، وَأَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُصَلَّى عَلَيْهِ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ تبوک میں تھے تو آپ پر وحی کا نزول ہوا۔۔۔ آگے سابقہ روایت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16845]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16846
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ:" مَا بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ هَذِهِ الْآيَةِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ" أَظُنُّهُ أَرَادَ قَوْلَهُ: {فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ} [التوبة: ١٢] ، قَالَ:" وَمَا بَقِيَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ إِلَّا أَرْبَعَةٌ" قَالَ: وَخَلْفَنَا أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ مَعْشَرَ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَدْرُونَ مَا لَا نَدْرِي، تَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ إِلَّا أَرْبَعَةٌ، فَمَا بَالُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَنْقُرُونَ بُيُوتَنَا تَحْتَ اللَّيْلِ؟ قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أُولَئِكَ الْفُسَّاقُ، أَجَلْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ إِلَّا أَرْبَعَةٌ، إِنَّ أَحَدَهُمْ لَشَيْخٌ كَبِيرٌ لَوْ شَرِبَ الْمَاءَ الْبَارِدَ مَا وَجَدَ بَرْدَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَأَظُنُّهُ أَرَادَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ الَّذِينَ سَمَّاهُمْ لَهُ رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں میں سے صرف تین بچے ہیں، گویا آپ کا اشارہ اس آیت کی طرف تھا ﴿فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ﴾ [سورة التوبة: 12] اور فرمایا: منافقین سے صرف چار بچے ہیں۔ کہتے ہیں: ہمارے پیچھے ایک دیہاتی بیٹھا تھا، وہ کہنے لگا: تم صحابہ کی جماعت ہو تم جانتے ہو، ہم نہیں جانتے؛ تمہارا خیال ہے کہ صرف چار منافق بچے ہیں تو وہ کون ہیں جو راتوں کو ہمارے گھروں کا شیرازہ بکھیرتے ہیں؟ تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: وہ فاسق ہیں اور منافقین میں سے چار ہی بچے ہیں، ان میں سے ایک بہت بوڑھا ہے کہ اگر وہ ٹھنڈا پانی بھی پیے تو اس ٹھنڈک کو نہیں پا سکتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16846]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16847
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ ⦗٣٤٩⦘ الْأَحْدَبِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ:" إِنَّ الْمُنَافِقِينَ الْيَوْمَ شَرٌّ مِنْهُمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانُوا يَوْمَئِذٍ يَكْتُمُونَهُ، وَهُمُ الْيَوْمَ يَجْهَرُونُهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آج کے منافق عہدِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے منافقین سے بھی برے ہیں، وہ اپنے نفاق کو چھپاتے تھے اور یہ ظاہر کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16847]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16848
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ، وَاشْرَأَبَّ النِّفَاقُ بِالْمَدِينَةِ، فَلَوْ نَزَلَ بِالْجِبَالِ الرَّاسِياتِ مَا نَزَلَ بِأَبِي لَهَاضَهَا، فَوَاللهِ مَا اخْتَلَفُوا فِي نُقْطَةٍ إِلَّا طَارَ أَبِي بِحَظِّهَا وَغَنَائِهَا فِي الْإِسْلَامِ، وَكَانَتْ تَقُولُ مَعَ هَذَا: وَمَنْ رَأَى ابْنَ الْخَطَّابِ عَرَفَ أَنَّهُ خُلِقَ غَنَاءَ الْإِسْلَامِ، كَانَ وَاللهِ أَحْوَذِيًّا نَسِيجَ وَحْدَهُ، قَدْ أَعَدَّ لِلْأُمُورِ أَقْرَانَهَا".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو عرب مرتد ہو گئے اور مدینہ میں نفاق پھیل گیا۔ اگر وہ مصیبتیں جو میرے والد پر نازل ہوئیں، پہاڑوں پر نازل ہوتیں تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتے۔ واللہ! جو بھی اسلام پر حملہ ہوا میرے والد نے اس کا دفاع کیا اور وہ اس کے ساتھ یہ بھی فرماتی تھیں کہ جس نے ابن خطاب (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) کو دیکھا وہ جان گیا کہ وہ پیدا ہی اسلام کی تقویت کے لیے ہوئے ہیں، اللہ کی قسم! وہ نہایت مستعد اور اپنی مثال آپ تھے، انہوں نے ہر معاملے کے لیے اس کے ہم پلہ تیاری کر رکھی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16848]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16849
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ" أَنْ يَدْعُوَهُمْ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ، وَيُنَبِّئَهُمْ بِالَّذِي لَهُمْ فِيهِ وَعَلَيْهِمْ، وَيَحْرِصَ عَلَى هُدَاهُمْ، فَمَنْ أَجَابَهُ مِنَ النَّاسِ كُلِّهِمْ، أَحْمَرِهِمْ وَأَسْوَدِهِمْ، كَانَ يَقْبَلُ ذَلِكَ مِنْهُ، بِأَنَّهُ إِنَّمَا يُقَاتِلُ مَنْ كَفَرَ بِاللهِ عَلَى الْإِيمَانِ بِاللهِ، فَإِذَا أَجَابَ الْمَدْعُوُّ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَصَدَقَ إِيمَانُهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ سَبِيلٌ، وَكَانَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ حَسِيبَهُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْهُ إِلَى مَا دَعَاهُ إِلَيْهِ مِنَ الْإِسْلَامِ مِمَّنْ يَرْجِعُ عَنْهُ أَنْ يَقْتُلَهُ".
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کو مرتدین کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا تو فرمایا: انہیں پہلے اسلام کی دعوت دینا، انہیں احساس دلانا اور ان کی ہدایت کی کوشش کرنا اور جو سمجھ جائے واپس لوٹ آئے اس سے قبول کرنا۔ لڑنا ان کے خلاف جو ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں اور جو اسلام قبول کر لے تو اس کا راستہ چھوڑ دینا، ان کا حساب اللہ پر ہے اور جو نہ مانے اس سے قتال کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16849]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16850
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خُلَيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" إِنَّ أُنَاسًا كَانُوا يُؤْخَذُونَ بِالْوَحْيِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ، وَإِنَّمَا نَأْخُذُكُمُ الْآنَ بِمَا ظَهَرَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ، فَمَنْ أَظْهَرَ لَنَا خَيْرًا أَمِنَّاهُ وَقَرَّبْنَاهُ، وَلَيْسَ إِلَيْنَا مِنْ سَرِيرَتِهِ شَيْءٌ، اللهُ يُحَاسِبُهُ فِي سَرِيرَتِهِ، وَمَنْ أَظْهَرَ لَنَا سُوءًا لَمْ نَأْمَنْهُ وَلَمْ نُصَدِّقْهُ، وَإِنْ قَالَ: إِنَّ سَرِيرَتِي حَسَنَةٌ ⦗٣٥٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عہدِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں لوگ وحی کے ذریعے پکڑے جاتے تھے، اب وحی منقطع ہو گئی ہے، اب ہم ظاہری اعمال سے پکڑتے ہیں، جس کے ظاہری اعمال اچھے ہیں ہم اس پر یقین کر لیتے ہیں اور اسے قریب کرتے ہیں اور اندرونی معاملہ اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے، اور جس کے ظاہری اعمال برے ہیں ہم نہ اس پر اعتماد کرتے ہیں اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں چاہے وہ کہے کہ میرا باطن اچھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16850]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16851
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِرَجُلٍ أَظْهَرَ الْإِسْلَامَ كَانَ يُعْرَفُ مِنْهُ:" إِنِّي لَأَحْسَبُكَ مُتَعَوِّذًا" فَقَالَ: إِنَّ فِي الْإِسْلَامِ مَا أَعَاذَنِي، قَالَ:" أَجَلْ، إِنَّ فِي الْإِسْلَامِ مَا أَعَاذَ مَنِ اسْتَعَاذَ بِهِ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے کہا جس کا اسلام ظاہر تھا اور اس سے پہچانا جا رہا تھا: میں گمان کرتا ہوں کہ تو بچنے والا ہے، تو اس نے کہا: اسلام میں وہ (پناہ) ہے جس نے مجھے بچا لیا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! اسلام اسے ہی بچاتا ہے جو اس کے ساتھ بچنا چاہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16851]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16852
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِالْكُوفَةِ رِجَالًا يُنْعِشُونَ حَدِيثَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ يَدْعُونَ إِلَيْهِمْ، فَكَتَبَ فِيهِمْ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ عُثْمَانُ:" أَنِ اعْرِضْ عَلَيْهِمْ دِينَ الْحَقِّ وَشَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَمَنْ قَبِلَهَا وَبَرِئَ مِنْ مُسَيْلِمَةَ فَلَا تَقْتُلْهُ، وَمَنْ لَزِمَ دِينَ مُسَيْلِمَةَ فَاقْتُلْهُ" فَقَبِلَهَا رِجَالٌ مِنْهُمْ فَتُرِكُوا، وَلَزِمَ دِينَ مُسَيْلِمَةَ رِجَالٌ فَقُتِلُوا.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں ایسے لوگ پکڑے جو مسیلمہ کذاب کے دین کی تبلیغ کر رہے تھے۔ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو جواب ملا کہ ان پر اسلام پیش کرو، توحید کی دعوت دو، اگر قبول کر لیں تو چھوڑ دو اور جو قبول نہ کرے اسے قتل کر دو، تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16852]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف