🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3441. -- باب: من زنى بامرأة مستكرهة
-- باب: جس شخص نے کسی عورت سے زبردستی (جبرًا) زنا کیا ہو اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q17046
قَدْ مَضَتِ الرِّوَايَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوَا عَلَيْهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت گزر چکی ہے کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سے خطا، بھول چوک اور جس کام پر انہیں مجبور کیا گیا ہو، (ان سب کا مؤاخذہ) معاف فرما دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: Q17046]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17046
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ" زَادَ غَيْرُهُ فِيهِ: وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهُ مَهْرًا وَفِي هَذَا الْإِسْنَادِ ضَعْفٌ مِنْ وَجْهَيْنِ: أَحَدُهُمَا أَنَّ الْحَجَّاجَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ، وَالْآخَرُ أَنَّ عَبْدَ الْجَبَّارِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ قَالَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ.
سیدنا وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عہدِ رسالت میں ایک عورت مجبور کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سے حد کو ساقط کر دیا اور جس نے زبردستی کی تھی اسے حد لگائی۔
اس سند میں دو وجہ سے ضعف ہے: ایک یہ کہ حجاج نے عبدالجبار سے نہیں سنا، اور دوسری یہ کہ عبدالجبار نے اپنے والد سے نہیں سنا؛ یہ بات امام بخاری وغیرہ نے کہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 17046]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17047
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ الْكَرَابِيسِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ:" أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، قَالُوا: بَغَتْ، قَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ نَائِمَةً، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِرَجُلٍ رَمَى فِيَّ مِثْلَ الشِّهَابِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَمَانِيَةٌ نَؤُومَةٌ شَابَّةٌ فَخَلَّى عَنْهَا وَمَتَّعَهَا".
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یمنی عورت لائی گئی، انہوں نے کہا: یہ زانیہ ہے، وہ کہنے لگی: میں سوئی ہوئی تھی، میں بیدار ہوئی تو ایک شخص نے شعلے کی سی تیزی سے میرے ساتھ یہ کام کر لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یمانیہ بڑی گہری نیند والی ہوتی ہیں، (چنانچہ) اسے چھوڑ دیا اور کچھ فائدہ بھی دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 17047]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17048
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، قَالَ: إِنَّا لَبِمَكَّةَ إِذْ نَحْنُ بِامْرَأَةٍ اجْتَمَعَ عَلَيْهَا النَّاسُ حَتَّى كَادَ أَنْ يَقْتُلُوهَا، وَهُمْ يَقُولُونَ: زَنَتْ زَنَتْ، فَأَتَى بِهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهِيَ حُبْلَى، وَجَاءَ مَعَهَا قَوْمُهَا، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا بِخَيْرٍ، فَقَالَ عُمَرُ: أَخْبِرِينِي عَنْ أَمْرِكِ، قَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كُنْتُ امْرَأَةً أُصِيبُ مِنْ هَذَا اللَّيْلِ، فَصَلَّيْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ثُمَّ نِمْتُ، وَقُمْتُ وَرَجُلٌ بَيْنَ رِجْلِيَّ، فَقَذَفَ فِيَّ مِثْلَ الشِّهَابِ ثُمَّ ذَهَبَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْ قَتَلَ هَذِهِ مَنْ بَيْنَ الْجَبَلَيْنِ، أَوْ قَالَ: الْأَخْشَبَيْنِ شَكَّ أَبُو خَالِدٍ لَعَذَّبَهُمُ اللهُ، فَخَلَّى سَبِيلَهَا وَكَتَبَ إِلَى الْآفَاقِ: أَنْ لَا تَقْتُلُوا أَحَدًا إِلَّا بِإِذْنِي.
نزال بن سبرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم مکہ میں تھے کہ ایک عورت کے گرد لوگ جمع ہو گئے، قریب تھا کہ وہ اسے مار دیتے اور وہ کہہ رہے تھے کہ اس نے زنا کیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اسے لایا گیا تو اس کی قوم بھی ساتھ آئی اور انہوں نے اس عورت کی بھلائی بیان کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اپنا معاملہ بیان کرو۔ وہ کہنے لگی: اے امیر المومنین! میں رات نماز پڑھ کر سو گئی تو میں بیدار ہوئی تو ایک شخص میری ٹانگوں کے درمیان تھا اور اس نے بجلی کی تیزی سے میرے ساتھ یہ کر دیا اور پھر بھاگ گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر ان دو پہاڑوں کے درمیان اسے قتل کر دیا جاتا تو اللہ ان کو عذاب دیتا۔ آپ نے اس کو چھوڑ دیا اور تمام عمال کو لکھ دیا کہ میری اجازت کے بغیر کسی کو قتل نہ کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 17048]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17049
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَحْمَدَ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ،" أَنَّ عَبْدًا، كَانَ يَقُومُ عَلَى رَقِيقِ الْخُمُسِ، وَأَنَّهُ اسْتَكْرَهَ جَارِيَةً مِنْ ذَلِكَ الرَّقِيقِ فَوَقَعَ بِهَا، فَجَلَدَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنَفَاهُ، وَلَمْ يَجْلِدِ الْوَلِيدَةَ لِأَنَّهُ اسْتَكْرَهَهَا" ⦗٤١١⦘ وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ.
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک غلام جو خمس سے تھا، ایک لونڈی جو اسی خمس سے تھی، کے ساتھ زبردستی کر گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کوڑے لگائے اور جلا وطن کر دیا اور اس لونڈی کو کچھ نہ کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 17049]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17050
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي بِنَيْسَابُورَ، قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ:" أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِامْرَأَةٍ جَهَدَهَا الْعَطَشُ، فَمَرَّتْ عَلَى رَاعٍ فَاسْتَسْقَتْ فَأَبَى أَنْ يَسْقِيَهَا إِلَّا أَنْ تُمَكِّنَهُ مِنْ نَفْسِهَا، فَفَعَلَتْ، فَشَاوَرَ النَّاسَ فِي رَجْمِهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَذِهِ مُضْطَرَّةٌ، أَرَى أَنْ نُخْلِيَ سَبِيلَهَا، فَفَعَلَ".
ابوعبدالرحمن سلمیٰ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس کو پیاس نے پریشان کیا تھا۔ وہ ایک چرواہے کے پاس گئی، پانی طلب کیا تو چرواہے نے انکار کر دیا اور کہا: اگر مجھے جماع کرنے دے تو دوں گا، وہ راضی ہو گئی۔ لوگوں نے اس کے رجم کا مشورہ دیا، لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ مجبور تھی، اس کا راستہ چھوڑ دو، تو اس کا راستہ چھوڑ دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 17050]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17051
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،" أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ، قَضَى فِي امْرَأَةٍ أُصِيبَتْ مُسْتَكْرَهَةً بِصَدَاقِهَا عَلَى مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ بِهَا" وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: عَلَيْهِ الْحَدُّ وَالصَّدَاقُ وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: عَلَيْهِ الْحَدُّ وَالْعُقْرُ وَعَنِ الزُّهْرِيِّ: عَلَيْهِ الصَّدَاقُ وَالْحَدُّ.
عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ نے ایسی عورت، جس سے زبردستی کی گئی ہو، اس کے حقِ مہر کا فیصلہ اس شخص پر فرمایا جس نے اس کے ساتھ ایسا کیا۔
عطاء اور زہری رحمہما اللہ کہتے ہیں: اس کے ذمے حد اور صداق ہے، اور حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حد اور عُقر (عصمت کا معاوضہ) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 17051]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ للزهري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں