السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3492. -- باب: ما جاء في تفسير الخمر الذي نزل تحريمها
-- باب: اس شراب کی تفسیر کا بیان جس کی حرمت نازل ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 17365
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: تَلَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَعْنِي آيَةً، ذَكَرَ فِيهَا الْخَمْرَ، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو وَهْبٍ الْجَيْشَانِيُّ فَسَأَلَهُ عَنِ الْمِزْرِ، قَالَ:" وَمَا الْمِزْرُ؟" قَالَ: شَيْءٌ يُصْنَعُ مِنَ الْحَبِّ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ" هَكَذَا جَاءَ مُرْسَلًا.
ابن طاؤس اپنے والد (طاؤس) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر وہ آیت تلاوت کی جو شراب کے بارے میں تھی، فرماتے ہیں: سیدنا ابو وہب جیشانی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزر کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مزر کیا ہے؟“ عرض کیا: ایک چیز ہے جو دانوں سے بنائی جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ یہ مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17365]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17366
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِيِّ رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ نُعَالِجُ بِهَا عَمَلًا شَدِيدًا، وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا، قَالَ:" هَلْ يُسْكِرُ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاجْتَنِبُوهُ" ثُمَّ جِئْتُهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ:" هَلْ يُسْكِرُ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاجْتَنِبُوهُ" ثُمَّ قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ، قَالَ:" فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَاقْتُلُوهُمْ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ.
سیدنا دیلم حمیری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! ہم ٹھنڈی زمین میں رہتے ہیں، زیادہ کام کرنے کے لیے ہم گیہوں سے مشروب بناتے ہیں تاکہ ہم زیادہ کام کریں، ہمارے شہر میں ایسے ہی ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس میں نشہ ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے بچو۔“ پھر میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا اور کہا کہ اس کی مثل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس میں نشہ ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے بچو۔“ پھر میں نے کہا: لوگ نہیں چھوڑتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ نہ چھوڑیں تو انہیں قتل کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17366]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17367
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ⦗٥٠٨⦘ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَعَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ وَهُوَ مَرْثَدٌ، عَنْ دَيْلَمٍ الْجَيْشَانِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ نَصْنَعُ بِهَا شَرَابًا مِنَ الْقَمْحِ، أَفَيَحِلُّ يَا نَبِيَّ اللهِ؟ فَقَالَ:" أَلَيْسَ بِمُسْكِرٍ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّهُ حَرَامٌ".
سیدنا دیلم جیشانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم بہت ٹھنڈی زمین میں رہتے ہیں، ہم اس میں کام کرتے ہیں۔ کیا ہمارے لیے گندم کا مشروب حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس میں نشہ نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ حرام ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17367]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17368
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ وَأَبُو زَكَرِيَّا، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ، حَدَّثَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَّمَهُمُ الصَّلَاةَ وَالسُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ، ثُمَّ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُهُ مِنَ الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ، فَقَالَ:" الْغُبَيْرَاءُ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" لَا تَطْعَمُوهُ" ثُمَّ لَمَّا كَانَ بَعْدَ يَوْمَيْنِ ذَكَرُوهُ لَهُ أَيْضًا، فَقَالَ:" الْغُبَيْرَاءُ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" لَا تَطْعَمُوهُ" ثُمَّ لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْطَلِقُوا سَأَلُوهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" الْغُبَيْرَاءُ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" لَا تَطْعَمُوهُ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: یمن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز سکھلائی اور سنن و فرائض سکھلائے۔ پھر انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم گندم سے شراب بناتے ہیں اور جو سے بھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(کیا یہ) غبیراء (ہے)؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نہ پیو۔“ پھر انہوں نے دو دن کے بعد پھر یہ ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(کیا یہ) غبیراء (ہے)؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نہ کھاؤ۔“ پھر انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ واپس جائیں، انہوں نے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(کیا یہ) غبیراء (ہے)؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نہ کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17368]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17369
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُبَيْشٍ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ صُوحَانَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ: جَاءَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: انْهَنَا عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" نَهَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْجِعَةِ وَحَلْقَةِ الذَّهَبِ وَلُبْسِ الْحَرِيرِ وَالْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ" لَيْسَ فِي حَدِيثِ ابْنِ خُشَيْشٍ النَّقِيرُ.
صعصعہ بن صوحان سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ہمیں ان چیزوں سے روکیے جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو روکا ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کدو کے برتن سے، سبز مٹکے سے، لکڑی کے برتن سے، جعہ (جو کی شراب) سے، سونے کی انگوٹھی سے، ریشم پہننے سے، قسی (ریشمی دھاری دار کپڑے) سے اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔“ ابن خشیش کی حدیث میں لکڑی کے برتن کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17369]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17370
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ، وَأَصْحَابِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجِعَةِ، وَالْجِعَةُ شَرَابٌ يُصْنَعُ مِنَ الشَّعِيرِ حَتَّى يُسْكِرَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْجِعَةِ» ”جعہ سے منع فرمایا۔“ اس سے مراد ایسی شراب جو جو سے بنی ہو یہاں تک کہ اس میں نشہ پیدا ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17370]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف